ویب ڈیسک: پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) نے آئندہ سال پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل 11) رمضان کے بعد اپریل اور مئی 2026 میں منعقد کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بار لیگ میں دو نئی ٹیموں کے اضافے کا بھی قوی امکان ہے، جس کے بعد ٹورنامنٹ پہلے سے زیادہ بڑا اور مسابقتی ہوگا۔
پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل فرنچائزز اور بورڈ کے درمیان کئی اہم معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔ اب تک کوئی باضابطہ میٹنگ نہیں ہوئی جس میں اگلے ایڈیشن کے شیڈول، ٹیموں کے اضافے اور فارمیٹ پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہو۔
ذرائع کے مطابق، اگلے سال کے آغاز میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے باعث پی ایس ایل کو روایتی مہینوں فروری اور مارچ میں منعقد کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ پاکستان ٹیم ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پہلے آسٹریلیا کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلے گی، جس کے بعد بنگلا دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچ ہوں گے۔
ورلڈ کپ اور پی ایس ایل کے بعد پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز بھی شیڈول ہے، جب کہ مئی کے بعد بنگلا دیش اور زمبابوے کے خلاف وائٹ بال سیریز کھیلی جائے گی۔
پی سی بی حکام کے مطابق ان تمام مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ایل کو رمضان کے بعد اپریل اور مئی میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
دوسری جانب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا اگلا ایڈیشن 15 مارچ سے 31 مئی تک کھیلا جائے گا، جس کے باعث امکان ہے کہ پی ایس ایل اور آئی پی ایل کے شیڈول میں ایک بار پھر تصادم ہو جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورت میں کئی انٹرنیشنل کرکٹرز کو دونوں لیگز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر پی سی بی نے دو نئی ٹیموں کا فیصلہ حتمی کر لیا تو یہ پی ایس ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن ہوگا، جس سے نہ صرف ریونیو میں اضافہ متوقع ہے بلکہ نئے کھلاڑیوں کے لیے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔