(ویب ڈیسک ) چین کی وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ یہ اضافی ٹیرف امریکی مصنوعات پر 10 اپریل سے نافذ ہوگا۔
امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی، چین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے 104 فیصد ٹیرف کے جواب میں امریکی مصنوعات پر 84 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل چین نے امریکی مصنوعات پر 34 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔
چین کی وزارتِ تجارت نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے 12 امریکی کمپنیوں کو اپنے برآمدی کنٹرول کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، جبکہ 6 امریکی کمپنیوں کو اپنی "غیر قابل اعتماد کمپنیوں" کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
چین کے اعلان کے فوراً بعد، امریکی سٹاک مارکیٹس میں مزید مندی دیکھنے میں آئی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ نے چین پر 104 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا۔اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اضافی ٹیرف بدھ، 9 اپریل سے وصول کیا جائے گا۔
امریکا کا ردعمل:
امریکی وزیر خزانہ نے چین کے 84 فیصد جوابی محصولات کے اقدام پراظہار افسوس کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ بدقسمتی ہے کہ چینی بات چیت نہیں کرنا چاہتا، چین بین الاقوامی تجارتی نظام میں بدترین مجرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نئے محصولات کا جواب دینے کے لیے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کی کوشش سے باز رہے، چین نے کرنسی کی قدر میں کمی کی تو یہ باقی دنیا پر ٹیکس ہے، ہر کسی کو قدر میں کمی کو دور کرنے کے لیے اپنے ٹیرف میں اضافہ کرتے رہنا پڑے گا۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ چین کرنسی کی قدر میں کمی کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئے۔