ویب ڈیسک: امریکی شہر لاس اینجلس کے مضافاتی علاقے میں موجود جنگلات میں لگنے والی آگ سے ہلاک افراد کی تعداد 5 ہوگئی جبکہ آگ سے نقصانات کا تخمینہ 50 ارب ڈالر سے بھی زائد ہوگیا۔تاریخی ہالی ووڈ ہلز میں آتشزدگی کی لپیٹ میں آئیں۔ پھیلنے والی آگ سے ایک ہزار سے زائد گھر تباہ ہوگئے۔
امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کے جنگلات میں لگنے والی آگ بے قابو ہو چکی ہے اور آگ نے بالی ووڈ ہلز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

فائر فائٹرز پہلے ہی تین مختلف مقامات پر آگ بجھانے میں مصروف ہیں اور اب تک آگ سے پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو فوری علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

بدھ کی شب ہالی وڈ ہلز میں لگنے والی آگ پبلک پارک ہالی وڈ باؤل سمیت دیگر مشہور مقامات پر بھڑک رہی ہے۔
آگ کی وجہ سے میٹروپولیٹن ایریا میں کوسٹ آئی لینڈ سے پسادینا تک رہائش پذیر ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ آبادی کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

لاس اینجلس میں منگل کی صبح لگنے والی آگ کے باعث اب تک ایک ہزار سے زائد اسٹرکچر جل کر خاک ہو چکے ہیں جن میں بیشتر لوگوں کے گھر ہیں۔
تیز ہواؤں کی وجہ سے جیسے جیسے آگ مختلف مقامات پر لگ رہی ہے ویسے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے
صدر جو بائیڈن نے کیلی فورنیا آتش زدگی کے باعث اپنی مدتِ صدارت کا آخری غیر ملکی دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر بائیڈن نے دورۂ اٹلی و ویٹیکن روانگی سے چند گھنٹے قبل ہی اپنا دورہ منسوخ کرتے ہوئے واشنگٹن میں ہی رہتے ہوئے آگ کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاس اینجلس کی میئر کیرن بیس کے مطابق ریاست بھر سے آنے والے فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں جب کہ آگ پر قابو پانے کے لیے فضائی آپریشنز بھی جاری ہیں۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ گورنر کے حکم پر آبادی کی طرف بڑھتی ہوئی آگ کی لپٹوں کے سبب 30000 لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ گورنر نے آج پیسیفک پیلیسیڈ کا دورہ کیا اور مقامی و ریاستی فائر بریگیڈ کے افسران سے ملاقات بھی کی ۔

لاس اینجلس کاؤنٹی کا تقریباً 27,000 ایکڑ، یا 42 مربع میل، آتشزدگی کا شکار ہے، زیادہ تر ایٹن اور پیلیسیڈس انفرنوس کے علاقے تباہی کاشکار ہوئے ۔ میں 30 سے 505 ایکڑ کے درمیان مزید تین جگہوں سے بھڑکنے والی آگ پھیل رہی ہے۔

فائر چیف چاڈ آگسٹن کے مطابق منگل کی شب لگنے والی آگ سے صرف پسادینا کے علاقے میں 200 سے 500 کے درمیان اسٹرکچر تباہ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ شب آگ پر قابو نہیں پا سکے، تیز ہوائیں آگ کو دور دور تک بھڑکا رہی ہیں۔
دوسری جانب پیلیسیڈ کے علاقے میں ایک ہزار سے زائد اسٹرکچر تباہ ہو گئے ہیں۔
آگ سے ہونے والی تباہی کو لاس اینجلس کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔
آگ 10,000 ایکڑ سے زیادہ تک پھیل گئی اور اب 13,000 عمارتوں کو خطرہ ہے۔

لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ کے تمام اسکول جمعرات کو بند رہیں گے ۔ پالیسیڈس میں دو اسکولوں کو آگ نے جلا کر خاکستر کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ کے شعلوں نے التادینا علاقے کی مسجد التقوی کوبھی لپیٹ میں لے لیا

آگ اس قدر ہے کہ اسے بجھانے کیلئے اہلکار اور پانی کم پڑگیا جبکہ لاکھوں افراد متاثرہ علاقہ خالی کرنے پر مجبورہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات سامنے نہ لائی جاسکیں۔آگ بھڑکنے کی وجہ سےلاس اینجلس شہر کی فضا خطرناک حدتک آلودہ ہوگئی۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے آگ سے ہزاروں گھر اور کاروباری مراکز جل کر خاک ہوگئے، آگ سے نقصانات کا تخمینہ 50 ارب ڈالر سے بھی زائد ہو چکا ہے۔
ادھر آگ کے باعث علاقہ مکینوں کے گھر چھوڑنے پر لٹیروں کی چاندی ہوگئی، خالی گھروں میں لوٹ مارکے واقعات بھی رپورٹ ہورہے ہیں۔