ویب ڈیسک: ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی میٹا نے انسٹاگرام کے ڈائریکٹ میسجز میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، حالانکہ کمپنی نے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ “مستقبل پرائیویسی کا ہے۔”
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ایک ایسا محفوظ میسجنگ فیچر تھا جس میں بھیجے گئے پیغامات صرف بھیجنے والا اور وصول کرنے والا ہی پڑھ سکتے تھے۔ تاہم، اب اس فیچر کے خاتمے کے بعد انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز اور میٹا کمپنی بھی صارفین کے نجی پیغامات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی گزشتہ روز سے نافذ العمل ہو چکی ہے، کیونکہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد بہت کم تھی، اور اسے برقرار رکھنا کمپنی کے لیے سود مند نہیں رہا۔
کمپنی کے ترجمان نے مزید کہا کہ جو صارفین اب بھی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ذریعے میسجنگ کرنا چاہتے ہیں، وہ آسانی سےواٹس ایپ استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صارفین کی پرائیویسی پر سوالات کو جنم دے سکتا ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر محفوظ رابطے کے مستقبل کے حوالے سے بحث کو پھر سے تیز کر سکتا ہے۔