ویب ڈیسک: برطانوی حکام کی جانب سے ملک بدری کے بعد معروف پاکستانی یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز رجب بٹ اور ندیم نانی والا پاکستان واپس پہنچ گئے۔ دونوں برٹش ایئرویز کی پرواز BA-2161 کے ذریعے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جہاں مداحوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
واپسی کے سفر کے دوران دونوں یوٹیوبرز نے جہاز میں بنائی گئی تصاویر اور مختصر ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جو چند ہی گھنٹوں میں وائرل ہوگئیں۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے پر امیگریشن حکام نے کارروائی مکمل کی، جس کے بعد دونوں اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔
وطن واپسی سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجب بٹ اور ندیم نانی والا کو گیمبلنگ ایپ اور سائبر کرائم کیسز میں ایک روزہ حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ پاکستان پہنچتے ہی انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔ یہ حکم جسٹس انعام امین منہاس نے وکیل احد کھوکھر کے دلائل سننے کے بعد جاری کیا تھا۔ وکیل کے مطابق دونوں یوٹیوبرز خود کو قانون کے حوالے کرنے اور مقدمات کا سامنا کرنے کے خواہش مند ہیں۔
گزشتہ روز برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ نے رجب بٹ کا 2027 تک کا ویزا منسوخ کر دیا تھا اور انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ ابتدا میں ان پر دہشت گردی اور شرپسند سرگرمیوں سے متعلق الزامات بھی لگائے گئے تھے، تاہم تحقیقات میں یہ دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے۔ برطانوی حکام کے مطابق ویزا منسوخی کی وجہ درخواست میں فراہم کی گئی "نامکمل اور غلط معلومات" تھیں، جو امیگریشن قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دی جاتی ہیں۔
مزید شکایات موصول ہونے کے بعد رجب بٹ کی فائل دوبارہ کھولی گئی، جس کے نتیجے میں برطانوی حکومت نے انہیں ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان پہنچنے کے بعد رجب بٹ نے برطانوی فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس اقدام کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور ویزا منسوخی انہیں "جانبدارانہ کارروائی" محسوس ہوتی ہے۔
دونوں یوٹیوبرز کی ڈی پورٹیشن کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔ کچھ صارفین نے اسے قانون کی بالادستی قرار دیا، جبکہ دیگر نے ان کے ساتھ پیش آنے والی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا۔ ایئرپورٹ پر موجود مداحوں نے امید ظاہر کی کہ رجب بٹ اور ندیم نانی والا جلد اپنے قانونی معاملات واضح کر کے دوبارہ سرگرمیاں شروع کریں گے۔