ویب ڈیسک: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے اور بحری آمدورفت معمول پر لانے کیلئے امریکا کو مبینہ جارحانہ کارروائیاں اور غیر قانونی مداخلت ختم کرنا ہوگی۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے جرمن وزیر خارجہ یوہان وادے فول سے ٹیلی فونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ سمیت عالمی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جرمن ہم منصب کو عمان کے ساتھ جاری مشاورت سے بھی آگاہ کیا۔ ان کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کیلئے ایک محفوظ بحری راستہ قائم کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مؤقف اختیار کیا کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ عدم تحفظ کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقل سکیورٹی کی بحالی کیلئے محفوظ بحری راستے کے انتظامات کے ساتھ ان اقدامات کا خاتمہ بھی ضروری ہے جنہیں ایران امریکی جارحیت اور مداخلت قرار دیتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق جب تک یہ معاملات حل نہیں ہوتے، آبنائے ہرمز میں مکمل اور معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی مشکل ہوگی۔