ویب ڈیسک: سینیٹ سے منظوری کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ ایوان میں حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں کم از کم 224 ووٹ درکار ہیں، تاہم حکمران اتحاد کے پاس 236 ارکان کی واضح اکثریت موجود ہے، جس کے باعث بل کی منظوری تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے 125 ارکان، جب کہ اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے 74 ارکان آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5 اور استحکامِ پاکستان پارٹی کے 4 ارکان بھی حکومت کی حمایت میں کھڑے ہیں۔
مزید یہ کہ مسلم لیگ (ضیاء) اور باپ پارٹی کا ایک ایک رکن، جبکہ چار آزاد ارکان بھی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
تاہم، حکمران اتحاد میں شامل نیشنل پارٹی نے اس آئینی ترمیم کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ آج ہونے والے اجلاس میں ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے یا غیر جانبدارانہ مؤقف اپنانے پر غور کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر آج قومی اسمبلی سے بھی بل منظور ہو گیا تو یہ پاکستان کے عدالتی و آئینی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا آغاز تصور کیا جائے گا، جس میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیارات کا خاتمہ، وفاقی آئینی عدالت کا قیام، اور فوجی کمان کے ڈھانچے میں ترمیم شامل ہیں۔