ویب ڈیسک: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے چار روز قبل مستعفی ہونے والے وزیر اعظم سباستیان لیکورنیو کو دوبارہ عہدے پر تعینات کر دیا ہے۔
میکرون کے فیصلے نے نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی اتحادیوں کو بھی حیران کر دیا ہے جو نئے چہرے کی آمد کے منتظر تھے تاکہ بجٹ بحران اور سیاسی جمود کا خاتمہ ہوسکے۔
ایلیسی پیلس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوریہ کے صدر نے مسٹر سباستیان لیکورنیو کو وزیر اعظم نامزد کیا ہے اور انہیں نئی حکومت بنانے کا حکم دیا ہے۔
لیکورنیو نے ایلیس کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ انہوں نے اس ذمہ داری کو فرض سمجھ کر قبول کیا۔ ہمیں اس سیاسی بحران کو ختم کرنا ہے۔" انہوں نے بجٹ کو سال کے آخر تک منظور کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ عوامی مالیات کی بحالی ملک کے مستقبل کے لیے اولین ترجیح ہے۔
لیکورنیو کی دوبارہ تقرری پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ریلی پارٹی کے سربراہ جورڈن بارڈیلا نے اسے ایک مذاق قرار دیا اور کہا کہ وہ نئی کابینہ کو فوری طور پر برطرف کرنے کے لیے ووٹ دیں گے۔
یہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سابق وزیر اعظم ایڈورڈ فلپ، جو آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجٹ کی منظوری کے بعد میکرون خود مستعفی ہو جائیں۔ تاہم میکرون نے کہا ہے کہ وہ اپنی مدت کے اختتام تک عہدے پر رہیں گے۔