ویب ڈیسک: نوبیل امن انعام کے چیئرمین یورگن واٹنے نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انعام نہ ملنے سے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوبیل کمیٹی کے فیصلے صرف الفریڈ نوبیل کی وصیت اور دیانتداری کے اصولوں کی روشنی میں کیے جاتے ہیں، نہ کہ سیاسی دباؤ یا خودساختہ دعووں پر۔
نوبیل امن انعام 2025 کے اعلان کے بعد ایک صحافی نے سوال کیا کہ صدر ٹرمپ خود کو بارہا نوبیل انعام کا مستحق قرار دے چکے ہیں۔ اور ان کا کہنا ہے کہ انعام نہ دینا "امریکا کی توہین" ہے۔
اس پر یورگن واٹنے نے محتاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی ہر سال ہزاروں خطوط اور آراء موصول کرتی ہے۔ ہم مختلف مہمات اور دباؤ کے باوجود، فیصلہ صرف امن کے لیے کی گئی کوششوں اور نوبیل کی وصیت کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی ایک ایسے کمرے میں بیٹھ کر غور و خوض کرتی ہے، جس کی دیواروں پر ماضی کے انعام یافتگان کی تصویریں آویزاں ہوتی ہیں، جو کمیٹی کو جرات، دیانتداری اور اصول پسندی کی یاد دہانی کراتی ہیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں شمالی کوریا اور مشرقِ وسطیٰ میں بعض معاہدوں کو بنیاد بنا کر خود کو نوبیل انعام کا حق دار قرار دیا تھا، تاہم انہیں اب تک یہ اعزاز نہیں ملا۔