ویب ڈیسک: وفاقی تحقیقاتی ادارے ( FIA) نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک بین الاقوامی گروہ کا سراغ لگا کر اس کے اہم رہنما کو گرفتار کر لیا، جو پاکستانی خواتین کو مفت عمرہ پیکج اور نوکریوں کے جھانسے میں سعودی عرب بھیج کر انہیں بھیک مانگنے پر مجبور کرتا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق، ایک خصوصی کارروائی کے دوران کمپوزٹ سرکل فیصل آباد کی ٹیم نے ملزم محمد شریف کو فیصل آباد ایئرپورٹ پر سعودی عرب سے واپسی پر گرفتار کیا۔
تحقیقاتی افسران کا کہنا ہے کہ یہ شخص کئی ماہ سے ایف آئی اے کی نگرانی میں تھا، کیونکہ مختلف رپورٹس میں انکشاف ہوا تھا کہ بعض خواتین کو مذہبی فریب کے ذریعے بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق، گروہ کے دو دیگر اہم ارکان ظہور احمد اور محمد غفور کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ گروہ مبینہ طور پر غریب اور غیر تعلیم یافتہ خواتین کو مفت عمرہ پیکج اور گھریلو ملازمتوں کا لالچ دے کر سعودی عرب بھیجتا تھا، جہاں پہنچنے کے بعد ان خواتین کو سخت نگرانی میں بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتا اور ان کے پاس بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا۔
ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائی انسانی اسمگلنگ کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان کے پاس ایک منظم نظام موجود تھا، جس میں مقامی ایجنٹس شامل تھے جو چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے متاثرہ خواتین کو بھرتی کرتے، ان سے ’’اسپانسرشپ فیس‘‘اور سفری اخراجات وصول کرتے تھے۔
حکام کے مطابق ادارہ سعودی حکام اور انٹرپول کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور متاثرہ خواتین کو وطن واپس لایا جا سکے۔
ایف آئی اے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ جعلی عمرہ یا بیرون ملک ملازمتوں کے جھانسے میں آنے سے گریز کریں، اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ایف آئی اے کی سرکاری ہیلپ لائن پر دیں۔