(ویب ڈیسک ) قطری دارالحکومت دوحہ میں آئندہ اتوار اور پیر کو ایک ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں دوحہ پر اسرائیلی حملے اور حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے واقعے پر غور کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ 9 ستمبر بروز منگل کو اسرائیل نے دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کارروائی کی متحدہ عرب امارات، دیگر خلیجی ممالک اور یورپی یونین کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
حماس نے بتایا کہ حملے میں اس کے اعلیٰ مذاکرات کار محفوظ رہے، تاہم حماس کے پانچ ارکان شہید ہوئے، جن میں غزہ میں جلاوطنی اختیار کرنے والے رہنما خلیل الحیہ کا بیٹا بھی شامل تھا۔
بدھ کے روز، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے قطر کو خبرار کیا کہ وہ یا تو حماس رہنماؤں کو ملک بدر کرے یا اُن کے خلاف کارروائی کرے، ورنہ "ہم خود کریں گے"۔ نیتن یاہو نے قطر پر حماس کو محفوظ پناہ گاہ اور مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام بھی لگایا۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں کہا کہ نیتن یاہو نے دوحہ پر حملہ کر کے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے کسی بھی معاہدے کی امید "قتل" کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو بخوبی جانتے ہیں کہ قطر میں حماس کے دفتر کی میزبانی امریکی اور اسرائیلی درخواست پر ثالثی کے تحت کی جا رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اخلاقیات اور آداب کا بھی کم از کم کوئی درجہ ہوتا ہے، اور یہ حملہ اس حد کو پار کر گیا۔"
قطری وزیر اعظم نے کہا کہ سچ کہوں تو ہمارے پاس اس اقدام پر غصے کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی حملے کو "ریاستی دہشتگردی" قرار دیا۔