(ویب ڈیسک )وفاقی حکومت نے شدید عوامی اور سیاسی ردِعمل کے بعد صارفین کو نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے اور ریگولیٹر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق تنقید کو بجلی کے شعبے میں جاری وسیع اصلاحات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کی کمی کی ہے اور آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کر کے 3,400 ارب روپے کی رعایت حاصل کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کے ٹیرف کم کیے گئے ہیں اور وزیرِاعظم کے ایک رشتہ دار سے منسلک منصوبے سے بھی 100 ارب روپے کی کمی حاصل کی گئی ہے۔ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں بھی کمی کی گئی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے وزیر نے کہا کہ یہ نظام 2017 میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں متعارف ہوا اور اس میں چار سے پانچ بار ریگولیٹری تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور پھر وفاقی کابینہ میں گیا، اور حکومت کو ریگولیٹر کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ ملک میں اس وقت سولر بجلی کی مجموعی صلاحیت 20,000 سے 22,000 میگاواٹ کے درمیان ہے۔ اس میں سے تقریباً 6,000 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ کے تحت ہے جبکہ 7,000 میگاواٹ صنعتی و کمرشل شعبے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 7 لاکھ صارفین نیٹ میٹرنگ سے مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت دیگر ذرائع سے تقریباً 8 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی حاصل کر رہی ہے تو کیا 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی خریدنا منصفانہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 3 کروڑ 50 لاکھ صارفین نیٹ میٹرنگ پر نہیں ہیں، تو کیا یہ پالیسی واقعی عوام دوست ہے؟
وزیر نے کہا کہ اسلام آباد کے ایف اور جی سیکٹرز میں زیادہ تر سولر سسٹمز نیٹ میٹرنگ پر ہیں جبکہ مضافاتی علاقوں جیسے برما ٹاؤن میں زیادہ تر سسٹمز نیٹ میٹرنگ پر نہیں۔ مجموعی طور پر ملک بھر میں صرف 8 سے 10 فیصد صارفین نیٹ میٹرنگ پر ہیں۔
سوال و جواب کے سیشن کے دوران پاور ڈویژن نے اعتراف کیا کہ ملک بھر کے 12,665 فیڈرز میں سے 2,223 فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ سب سے خراب صورتحال کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی میں ہے جہاں 814 میں سے 604 فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہے۔
سکھر الیکٹرک پاور کمپنی میں 707 میں سے 407 فیڈرز، قبائلی علاقہ جات الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 357 میں سے 174 فیڈرز اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 1,376 میں سے 642 فیڈرز طویل لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔
اس کے برعکس لاہور، اسلام آباد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی بجلی کمپنیوں میں کوئی بھی فیڈر 10 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ کا شکار نہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو سالوں میں ٹرانسمیشن نقصانات 600 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔ مالی سال 2024 میں نقصانات 322 ارب روپے جبکہ مالی سال 2025 میں 284 ارب روپے رہے۔ پشاور کمپنی میں سب سے زیادہ 96 ارب روپے کا نقصان ہوا، اس کے بعد کوئٹہ میں 51 ارب، لاہور میں 46 ارب، سکھر میں 37 ارب اور حیدرآباد میں 22 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران صارفین نے 8.78 ارب یونٹس بجلی استعمال کی۔ ملک بھر کی 11 تقسیم کار کمپنیوں کے تحت صارفین کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 92 لاکھ 20 ہزار ہے۔ محفوظ (Protected) صارفین کی تعداد اکتوبر 2021 میں 95 لاکھ سے بڑھ کر اب 2 کروڑ 15 لاکھ 50 ہزار ہو گئی ہے۔
وزیرِ نے کہا کہ دسمبر 2025 تک نیٹ میٹرنگ کے تحت صلاحیت 7,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی جبکہ آف گرڈ سولر صلاحیت 12.62 میگاواٹ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صارفین سالانہ 310 ارب روپے سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے لیے ادا کر رہے ہیں۔ متعدد آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی جا چکی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی رعایت صارفین کو منتقل کی گئی ہے، جبکہ مزید آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 7,967 میگاواٹ کے مہنگے بجلی منصوبے بھی منسوخ کیے جا چکے ہیں۔