ویب ڈیسک: امریکہ کی وفاقی اپیل عدالت نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان کے ساتھ امریکی حکومت کے درمیان ہونے والے رعایتی معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، گزشتہ سال موسم گرما میں خالد شیخ محمد نے دو دیگر ملزمان کے ہمراہ اپنی سزاؤں میں نرمی کے بدلے تمام الزامات قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اس معاہدے کے تحت انہیں ممکنہ طور پر سزائے موت کی بجائے عمر قید سنائی جا سکتی تھی۔
تاہم امریکی حکومت نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے معاہدے سے انصاف کے عمل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عدالت کے تین رکنی بینچ نے دو کے مقابلے میں ایک ووٹ سے یہ معاہدہ منسوخ کر دیا، جب کہ جج رابرٹ ولکنز نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔
اس معاہدے کے تحت 9/11 کے متاثرین کے اہل خانہ کو خالد شیخ محمد سے سوالات کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جن کے وہ سچ اور دیانتداری سے جوابات دینے کے پابند ہوتے۔
یہ مقدمہ 2003 سے گوانتاناموبے میں قید خالد شیخ محمد کے گرد گھوم رہا ہے، جو اس کیس کی مرکزی شخصیت ہیں۔ متاثرین کے اہل خانہ اس معاہدے پر منقسم رہے—کچھ نے اسے انصاف کی طرف قدم قرار دیا، جب کہ دوسروں نے اسے ایک سنگین مقدمے کو جلد ختم کرنے کی کوشش سمجھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، پراسیکیوٹرز کی جانب سے متاثرین کے خاندانوں کو ایک خط میں بتایا گیا تھا کہ تینوں ملزمان 2,976 افراد کے قتل سمیت تمام الزامات تسلیم کرنے کو تیار ہیں، بشرطیکہ سزائے موت کو ہٹا دیا جائے۔
خالد شیخ محمد کی قانونی ٹیم بھی یہ تسلیم کر چکی ہے کہ وہ تمام الزامات قبول کرنے پر راضی ہو چکے تھے، مگر اب عدالت نے اس معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے۔
خالد شیخ محمد کون ہیں؟
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق خالد شیخ محمد 14 اپریل 1965 کو کویت میں پیدا ہوئے، اُن کے والد مقامی مسجد کے پیش امام تھے اور اُن کا تعلق پاکستان سے تھا۔
خالد نے 16 سال کی عمر میں اسلامی تنظیم ’اخوان المسلمون‘ کی رکنیت حاصل کی تھی۔
1983 میں سیکنڈری سکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں انہوں نے نارتھ کیرولائنا ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہاں مکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے لگے، یہاں اُن کی ملاقات عرب طلبا کے ایک گروپ سے ہوئی جو یہاں پہلے سے ہی زیرِ تعلیم تھے۔
اس گروپ کے افراد کی مذہبی معاملات میں دلچسپی کے باعث انہیں یونیورسٹی کے باقی طلبا ملاز کہتے تھے، دسمبر 1986 میں خالد نے مکینیکل انجینیئرنگ کی ڈگری مکمل کر لی مگر اس دوران وہ شدت پسندی سے متعلقہ معاملات میں کافی آگے جاچکے تھے۔
1987 میں خالد شیخ محمد اسامہ بن لادن کے ساتھ ملے اور افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف جنگِ جاجی میں شریک ہوئے۔
نائن الیون حملوں کے سہولت کار اور 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز پر حملہ کرنے والے رمزی یوسف بھی خالد شیخ محمد کے بھتیجے تھے، رمزی یوسف نے 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، اگرچہ رمزی کا مشن ناکام ہوا، لیکن اس کا شدت پسندوں کی اُس وقت کی اُبھرتی ہوئی نسل پر گہرا اثر پڑا تھا۔
ٹام میک ملن نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 1993 کے حملے نے انتہا پسندوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی تھی کہ امریکی سرزمین پر حملہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔