عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد، میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد، میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم
کیپشن: عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد، میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی شفا ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنا تے ہوئےحکومت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چیف کمشنر کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقلی کی اجازت نہ مل سکی۔ عدالت نے ڈاکٹر عارف ، ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کا حکم دیا۔ جیل رولز کے مطابق قیدی کی فیملی کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ حکومت انڈر ٹیکنگ دے کہ ڈاکٹر ندیم عمران خان اور فیملی سے رابطے میں رہیں گے۔

اس سے قبل دوران سماعت علیمہ خانم نے روسٹرم پر آکر کہا تھا کہ بانی کی زندگی خطرے میں ہے۔ بانی چار ماہ سے قید تنہائی میں ہیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ ذاتی معالجین کو میڈیکل رپورٹس نہیں دیں گی۔ جب کانفرنس کال میں بتا رہے تھے وہ بھی مانیٹر ہو رہا تھا آپ کو پتہ ہی ہے کیا ہوتا ہے۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ شفا آئی ہسپتال کے رٹنا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم قریشی ان کے کہنے پر بورڈ میں شامل کئے گئے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے گوگل بھی کیا تھا ڈاکٹر ندیم قریشی بہترین رٹنا اسپیشلسٹ ہیں۔ آپ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرکے ٹیسٹ کر لیں۔ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اتنے دن رکھیں اتنا وقت رکھیں۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیئے کہ میڈیکل بورڈ کا کوئی بھی کاغذ ہمارے پاس نہیں ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیئے کہ یہ تسلیم شدہ ہے ایشو ہے علاج ہو رہا ہے۔ آپ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال بے شک دو گھنٹے کے لیے شفٹ کر دیں ہم یہ نہیں کہیں گے تین دن یا تین ماہ رکھیں۔ دیکھ لیں یہ ساری ذمہ داری آپ لے رہے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر کل کچھ ہو گیا تو کیا آپ ذمہ داری لیں گے۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے کہا کہ ہم ذمہ داری لیں گے۔ جس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیئے کہ کیا ریکارڈ پر لکھ دیں۔

دوران سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا۔ اگر قیدی مطمئن نہیں تو کیا ہو گا۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ میڈیکل آفیسر کا مطمئن ہونا ضروری ہے قیدی کا نہیں۔

جواب میں جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ علاج تو کروا رہے ہیں اب چیک اپ شفا میں ہو جائے۔ آپ ذاتی معالجین کو رسائی دے دیں۔ علاج ہو رہا حکومت تسلیم کر رہی ہے ڈاکٹر ندیم قریشی بہترین رٹنا اسپیشلسٹ ہیں۔ دوران سماعت علیمہ خانم نے کہا کہ یہ سچ بھی نہیں بولتے سارا دن جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حیرانگی ہے کہ آپ سب کر رہے ہیں پھر بھی مخالفت کر رہے ہیں۔

Watch Live Public News