ویب ڈیسک: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی بحریہ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے، تاہم وہ بحری قوت اب بھی محفوظ ہے جو آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی روایتی بحریہ بڑے جنگی جہازوں پر مشتمل تھی، جنہیں زیادہ تر علامتی حیثیت اور طویل فاصلے کی تعیناتیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے پاس ایک علیحدہ بحری بیڑا موجود ہے، جس میں تیز رفتار کشتیاں اور چھوٹے جہاز شامل ہیں۔ یہ بیڑا میزائل حملے کرنے، بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے ایک امریکی تحقیقی ادارے کے حوالے سے بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں کا ساٹھ فیصد سے زائد حصہ اب بھی محفوظ ہے اور بدستور خطرہ بنا ہوا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق چھ اپریل تک امریکا ایک سو پچپن سے زائد ایرانی بحری جہازوں کو تباہ کر چکا ہے، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا ہے، خاص طور پر اس کے جدید جہاز تباہ ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر نقصان ایران کی روایتی بحریہ کو ہوا، جس میں بڑے جنگی جہاز شامل تھے۔ ایک نمایاں کارروائی میں امریکی آبدوز نے بحرِ ہند میں ایران کے جنگی جہاز آئی آر آئی ایس دینا کو نشانہ بنایا، جس میں تقریباً ایک سو اسی افراد سوار تھے اور کم از کم ستاسی ہلاک ہوئے۔
اخبار کے مطابق بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور فریگیٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے جدید جنگی جہاز ’شہید صیاد شیرازی‘ اور ڈرون بردار جہاز ’شہید باقری‘ بھی حملوں کی زد میں آئے۔
دفاعی تجزیاتی ادارے جینز کے مطابق ایران اپنے سات میں سے چھ فریگیٹس، دونوں کورویٹس اور تین میں سے ایک آبدوز کھو چکا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں، جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے محدود سمندری راستوں میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ چھوٹے جہاز تعداد میں زیادہ ہیں اور سیٹلائٹ سے آسانی سے نظر نہیں آتے، جبکہ ایران نے ساحلی علاقوں میں زیرِ زمین اڈے بھی قائم کر رکھے ہیں جہاں سیکڑوں حملہ آور کشتیاں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔