مودی کے دورہ مقبوضہ جموں وکشمیرسے قبل پابندیاں مزید سخت

مودی کے دورہ مقبوضہ جموں وکشمیرسے قبل پابندیاں مزید سخت
کیپشن: مودی کے دورہ مقبوضہ جموں وکشمیرسے قبل پابندیاں مزید سخت

ویب ڈیسک: مقبوضہ جموں وکشمیر میں مودی کے دورے سے قبل پابندیاں مزید سخت کردی گئی ہیں۔ 

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مودی کے دورے کو کشمیری عوام کے حقوق کا مذاق قرار دیا گیا۔کبھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں اضافی چوکیاں قائم کر دیں۔کشمیر میں مواصلاتی نگرانی میں اضافہ، عوامی اجتماعات پر پابندیاں مزید سخت کردی گئی ہیں۔ 
کشمیر میڈیا سروس نےمقبوضہ کشمیر میں فوجی کارروائیوں پر تنقید کی ہے۔کشمیر میں ترقی کے دعوے، ناقدین نے مودی کو کشمیریوں کے حقوق کا دشمن قرار دیا۔ مودی کے دورے پر مقامی صحافیوں کا کہنا ہے: "یہ دورہ گمراہ کن ہے"۔

کشمیر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دھونس اور جبر کے باوجود امن اور ترقی ممکن نہیں"۔
کشمیریوں کا مطالبہ ہے کہ "مقبوضہ کشمیر میں حقیقی امن تبھی آئے گا جب فوجی قبضہ ختم ہو گا"۔بین الاقوامی مبصرین نےسوال کیا ہے کہ کیا مودی کا پروپیگنڈہ دورہ کشمیریوں کی مشکلات چھپانے میں کامیاب ہوگا؟

مقبوضہ کشمیرمیں حکومتی نااہلی،  سوشل ویلفیئر محکمے کے  ملازمین کی غلطیوں سے مستحقین کو مسائل کا سامناہے۔ملازمین کی نااہلی کے باعث مستحقین کو دشواری، تصدیق کے عمل میں مہینوں کی تاخیرکاسامنا ہے۔
جنوبی کشمیر میں آدھار کارڈ تصدیق میں تاخیر: سماجی بہبود محکمے کے دفاتر اور بینکوں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔امداد سے متعلق شکایات، تصدیق میں تاخیر کے باعث سینکڑوں مستحقین مالی معاونت سے محروم ہیں۔
متاثرہ افراد کا مطالبہ ہے کہ تصدیق کے دوران روکی گئی قسطوں کی فوری ادائیگی کی جائے۔بزرگوں کی مالی امداد: تصدیق کے عمل میں تاخیر سے 105,700 غیر مستحق افراد اسکیم سے خارج کیے گئے۔
بزرگ شہریوں کی شکایات: چار ماہ کی تاخیر کے بعد قسطوں کی جزوی ادائیگی کی گئی۔
مستحقین کا مطالبہ ہے کہ تصدیق کے عمل کے دوران روکی گئی تمام رقوم جلد ادا کی جائیں۔

Watch Live Public News