آسٹریلیا:لبرل پارٹی کو بدترین شکست،پہلی مرتبہ خاتون رہنما منتخب

آسٹریلیا:لبرل پارٹی کو بدترین شکست،پہلی مرتبہ خاتون رہنما منتخب
کیپشن: آسٹریلیا:لبرل پارٹی کو بدترین شکست،پہلی مرتبہ خاتون رہنما منتخب

ویب ڈیسک: آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی بار لبرل پارٹی نے ایک خاتون کو اپنا رہنما منتخب کر لیا ہے۔ سوسن لی نے پیٹر ڈٹن کی جگہ لی ہے، جن کی قیادت میں پارٹی کو حالیہ انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پارٹی کے اعتدال پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والی لی نے انگس ٹیلر کو صرف چار ووٹوں سے شکست دی، جو روایتی قدامت پسند اقدار کی بحالی کا نعرہ لے کر میدان میں اترے تھے۔
انتخابات میں لبرل-نیشنل اتحاد کو تاریخی نقصان ہوا، جسے مبصرین اور ارکان نے " ٹرمپ جیسے بیانیے"، متنازع قیادت، اور خواتین و نوجوانوں سے لاتعلقی کا نتیجہ قرار دیا۔

سوسن لی جو دو دہائیوں سے نیو ساؤتھ ویلز کی نمائندہ ہیں، متعدد وزارتوں میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ "ہمیں ایک ایسی لبرل پارٹی بنانی ہے جو جدید آسٹریلیا کی عکاسی کرے اور عوام سے جڑ کر چلے۔"انہوں نے پارٹی پالیسیوں، بشمول نیوکلیئر توانائی اور ماحولیاتی اہداف، پر نظرثانی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

لی کا سیاسی سفر بھی منفرد ہے۔ نائجیریا میں پیدا ہوئیں، متحدہ عرب امارات میں بچپن گزارا، اور 13 سال کی عمر میں آسٹریلیا منتقل ہوئیں۔ ایک وقت میں انہوں نے نام کی ہجے "Susan" سے "Sussan" تبدیل کی، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ یہ ان کی زندگی میں " ایکسائٹمنٹ" لائے گا۔

وہ سابق وزیرِ صحت اور ماحولیات بھی رہ چکی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ماضی میں فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کر چکی ہیں، مگر حالیہ برسوں میں اسرائیل سے ہمدردی کا بھی اظہار کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لیبر پارٹی کے انتھونی البانیز ایک شاندار فتح کے بعد دوبارہ وزیرِاعظم منتخب ہو چکے ہیں۔ سوسن لی کی قیادت لبرل پارٹی کے لیے ایک نئی سمت متعین کر سکتی ہے — خاص طور پر ان خواتین اور نوجوانوں کے لیے جنہوں نے پچھلے انتخابات میں پارٹی سے منہ موڑ لیا تھا۔

Watch Live Public News