ویب ڈیسک: اکثر وقت کی پابندی کو پروفیشنلزم کی علامت سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب بات ملازمت کے انٹرویو کی ہو۔ تاہم، ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ نے اس عمومی سوچ کو چیلنج کر دیا ہے، جس میں ایک کاروباری شخصیت نے انٹرویو کے لیے بہت جلد پہنچنے والے امیدوار کو نوکری نہ دینے کا انکشاف کیا۔
امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں ایک کلیننگ سروس کمپنی کے مالک، میتھیو پریوٹ نے LinkedIn پر اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے ایک آفس ایڈمنسٹریٹر کی آسامی کے لیے امیدوار کو بلایا، جو مقررہ وقت سے پورے 25 منٹ قبل دفتر پہنچ گیا۔ میتھیو کے مطابق، یہ بات ان کے لیے اس قدر اہم ثابت ہوئی کہ انہوں نے امیدوار کو ملازمت دینے سے گریز کیا۔
میتھیو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پانچ سے دس منٹ پہلے آنا مناسب سمجھا جاتا ہے، لیکن اس سے زیادہ جلدی پہنچنا وقت کی ناقص منصوبہ بندی یا سماجی شعور کی کمی کا تاثر دیتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ امیدوار وقت کے نظم و ضبط سے ہم آہنگ نہیں ہے، جو کہ ایک منفی پہلو ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ غیر پیشہ ورانہ بھی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے ممکنہ طور پر میزبان پر دباؤ پڑ سکتا ہے یا دفتر کی ترتیب و تنظیم متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ وقت کی پابندی کا مطلب ہے مناسب وقت پر پہنچنا، نہ کہ بہت جلدی۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور مختلف صارفین کی جانب سے مثبت اور منفی آرا سامنے آئیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ وقت کی پابندی کا تصور ہر فرد کے نزدیک مختلف ہو سکتا ہے۔