نئی دہلی میں سادھوؤں کے احتجاج نے رام مندر کے چندے کی چوری اور سی بی آئی تحقیقات کے مطالبے پر قومی بحث چھیڑ دی

نئی دہلی میں سادھوؤں کے احتجاج نے رام مندر کے چندے کی چوری اور سی بی آئی تحقیقات کے مطالبے پر قومی بحث چھیڑ دی

ویب ڈیسک:  نئی دہلی میں منڈی ہاؤس کے قریب سینکڑوں مشتعل سادھوؤں اور مذہبی رہنماؤں نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کیا اور ایودھیا رام مندر کے چندہ بکسوں سے بڑے پیمانے پر نقد رقم کی چوری کے الزامات کی مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی تحقیقات کے بعد سامنے آیا، جس میں آٹھ افراد گرفتار ہوئے اور چوری شدہ تقریباً 80 لاکھ روپے برآمد کیے گئے، جبکہ بڑھتے قانونی دباؤ اور سپریم کورٹ کی نگرانی کے باعث ٹرسٹ کے اہم عہدیداروں کو استعفے دینا پڑے۔

بدعنوان مندر منتظمین نے لاکھوں غریب اور عقیدت مند شہریوں کی جانب سے دی گئی مقدس چندے کی رقم براہِ راست چوری کی۔ مشتعل سادھو بڑے مالیاتی دھوکے کو بے نقاب کرنے اور فوری سی بی آئی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی دارالحکومت کی سڑکوں پر نکل آئے۔ مقامی پولیس کی جانب سے آٹھ چھوٹے چوروں کی گرفتاری سرکاری ٹرسٹ انتظامیہ کے اندر موجود سنگین نظامی بدعنوانی پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ عوامی غم و غصے اور سپریم کورٹ کی سخت جانچ کے بعد ٹرسٹ عہدیدار بدنامی کے عالم میں استعفے دے رہے ہیں۔

2021 میں بائیس ہزار سے زائد عطیہ دہندگان کے چیک، جن کی مالیت تقریباً بائیس کروڑ روپے تھی، انتظامی نااہلی کے باعث باؤنس ہوئے۔ بااثر اندرونی عناصر نے دو کروڑ روپے کی زمین خرید کر چند منٹ بعد ہی اسے ٹرسٹ کو اٹھارہ کروڑ روپے میں فروخت کیا، تاکہ بھاری غیر قانونی منافع کمایا جا سکے۔ تروپتی اور شرڈی جیسے مذہبی مقامات بھی چوری شدہ سونے، غیر درج شدہ نقد نذرانوں اور جعلی عطیہ رسیدوں سے متعلق اسی نوعیت کے اسکینڈلز کی زد میں آ چکے ہیں۔

شفاف نگرانی سے محروم عوامی ٹرسٹ جب خفیہ انداز میں کام کریں تو وہ مالی استحصال اور بے لگام لالچ کے مراکز بن سکتے ہیں۔

ہر بدعنوان منتظم کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے، اس کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور ٹرسٹ کے مکمل آڈٹ شدہ مالی گوشوارے عوام کے سامنے لائے جائیں۔

Watch Live Public News