’غیر تصدیق شدہ‘ مردم شماری پر منی پور میں احتجاج،  نئی دہلی کی پالیسیوں کیخلاف عوام سڑکوں پر

’غیر تصدیق شدہ‘ مردم شماری پر منی پور میں احتجاج،  نئی دہلی کی پالیسیوں کیخلاف عوام سڑکوں پر
کیپشن: ’غیر تصدیق شدہ‘ مردم شماری پر منی پور میں احتجاج،  نئی دہلی کی پالیسیوں کیخلاف عوام سڑکوں پر

ویب ڈیسک: منی پور میں 2027 کی مردم شماری سے قبل نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کو اپ ڈیٹ کرنے کا مطالبہ اب محض ایک انتظامی بحث نہیں رہا بلکہ بھارتی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غصے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ نئی دہلی اور یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے کئی دہائیوں تک غیر دستاویزی ہجرت، مقامی آبادی کے تحفظ اور سیاسی نمائندگی سے متعلق خدشات کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا۔ ان کے مطابق اگر متنازع آبادیاتی صورتحال کو درست کیے بغیر مردم شماری کرائی گئی تو بھارتی ریاست ایسے زمینی حقائق کو سرکاری درجہ دے سکتی ہے جنہیں مقامی آبادی پہلے ہی مسترد کر رہی ہے۔

اہم نکات

منی پور میں بھارتی حکومت کی مردم شماری پالیسی کو چیلنج کرتے ہوئے جسٹ اینڈ فیئر ڈی لیمیٹیشن کمپین (JFD) نے مطالبہ کیا ہے کہ 2027 کی مردم شماری سے پہلے NRC اپ ڈیٹ کیا جائے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ مبینہ غیر دستاویزی تارکین وطن کے مسئلے کو حل کیے بغیر آبادی کی گنتی ناقابلِ قبول ہوگی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ NRC کے لیے 1951 کو بنیادی سال تسلیم کیا جائے، تاکہ بعد میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کو سیاسی نمائندگی اور حلقہ بندیوں پر مستقل اثر ڈالنے کا ذریعہ نہ بنایا جا سکے۔

JFD کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کوئی نیا بحران نہیں۔ غیر دستاویزی تارکین وطن کی شناخت کا مطالبہ 1980 سے بھارتی حکام کے سامنے موجود ہے، جب 16 نکاتی معاہدہ طے پایا تھا۔ تنظیم کے مطابق 1994 میں بھی وعدہ دہرایا گیا، لیکن دہائیاں گزرنے کے باوجود اسے مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیا گیا۔

احتجاجی رہنماؤں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے منی پور کے مقامی باشندوں کے آبادیاتی خدشات کو مسلسل نظرانداز کیا اور ایک حساس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے برسوں تک سڑنے دیا۔

JFD نے نئی دہلی کو خبردار کیا ہے کہ اگر NRC اپ ڈیٹ کیے بغیر مردم شماری مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو احتجاج مزید سخت کیا جائے گا۔ تنظیم نے سرکاری دفاتر کے گھیراؤ، مردم شماری کی تربیت میں رکاوٹ اور فیلڈ ورک کی مزاحمت تک کا عندیہ دیا ہے۔

امپھال میں طلبہ نے مردم شماری کی تربیتی سرگرمیوں کے مقامات پر احتجاج کرتے ہوئے بھارتی حکام سے سوال کیا کہ جب بنیادی آبادیاتی تنازعات ہی حل نہیں کیے گئے تو مردم شماری کس بنیاد پر کرائی جا رہی ہے۔ JFD نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی لاٹھی چارج کارروائی میں دو طلبہ زخمی ہوئے، اگرچہ رپورٹ کے وقت تک پولیس نے اس دعوے پر مؤقف نہیں دیا تھا۔

احتجاج اب صرف طلبہ یا سیاسی کارکنوں تک محدود نہیں رہا۔ خواہرم بند ایما کیتھل کی خواتین دکاندار بھی سڑکوں پر نکل آئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کے مردم شماری منصوبے کے خلاف بے اعتمادی معاشرے کے مختلف طبقات تک پھیل رہی ہے۔ طلبہ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ نسلی تشدد کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کی مکمل آبادکاری سے پہلے مردم شماری کیسے قابلِ اعتبار ہو سکتی ہے؟ ان کا مطالبہ ہے کہ پہلے متاثرین کو ان کے گھروں اور علاقوں میں واپس بسایا جائے، پھر آبادی کا سرکاری شمار کیا جائے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ غیر دستاویزی ہجرت کے مسئلے کو حل کیے بغیر مردم شماری کرانا محض اعداد و شمار اکٹھے کرنا نہیں بلکہ ایک متنازع آبادیاتی حقیقت کو سرکاری حیثیت دینے کے مترادف ہو سکتا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی حلقہ بندیوں، سیاسی طاقت اور مقامی برادریوں کی نمائندگی پر دہائیوں تک پڑ سکتے ہیں۔

یکم سے 30 ستمبر 2026 تک ہاؤس لسٹنگ کا مرحلہ مقرر ہے، مگر بڑھتی مزاحمت نے نئی دہلی کے لیے ایک اور سنگین سیاسی محاذ کھول دیا ہے۔ منی پور میں پہلے ہی نسلی کشیدگی، بے دخلی اور حکومتی پالیسیوں پر شدید عدم اعتماد موجود ہے؛ ایسے میں NRC کے بغیر مردم شماری آگے بڑھانے کی کوشش بھارتی حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔

Watch Live Public News