ویب ڈیسک: قومی اسمبلی اجلاس کے دوران شیر افضل مروت نے وقفہ سوالات میں اپنے ہی ارکان سے ایسا سوال کر دیا جس پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔
تفصیلات کے مطابق اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس میں شیر افضل مروت کی آمد پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجائے جس پر اسپیکر نے مسکراتے ہوئے لقمہ دیا کہ آپ لوگ مروا نہ دینا ان کو۔
پی ٹی آئی ارکان چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کی قیادت میں ایوان پہنچے تو پی ٹی آئی ارکان کے ایوان میں آتے ہی شیر افضل مروت نے مجھے کیوں نکالا کے نعرے لگائے۔
حکومتی ارکان نے بھی ’مروت کو کیوں نکالا جواب دو‘ اور ’ظالمو جواب دو مروت کا حساب دو‘ کے نعرے بلند کیے۔
بیرسٹر گوہر نے اپنے مائیک کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی تصویر رکھ لی۔
پی ٹی آئی ارکان بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے، پی ٹی آئی ارکان پلے کارڈز ڈیسک پر رکھ بیٹھ گئے۔
شیر افضل مروت نے مختصر نکتہ اعتراض پر کہا کہ میرا سوال اپنے ہی دوستوں سے ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟ شیر افضل مروت کے سوال پر حکومتی ارکان مسکرا دیے جبکہ تحریک انصاف اراکین خاموش رہے۔
شیر افضل مروت کی صحافیوں سے گفتگو
پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ جو 10 وکیل بانی پی ٹی آئی سے ملنے جیل جاتے ہیں ان میں سے کیس لڑنے والا ایک ہی ہوتا ہے، باقی 9 وکیل بانی پی ٹی آئی کے کان بھرنے اور پیغام رسانی کیلئے جاتے ہیں۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ جو نامور وکلاء میڈیا پر نظر آتے ہیں، کسی عدالت میں آپ کو یہ وکیل کے طور پر نظر نہیں آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان وکلاء نے بنیادی طور پر پیغام رسانی کا کام شروع کیا ہوا ہے، وکلاء جا کر بانی پی ٹی آئی کو شکایات لگاتے ہیں، ایک وکیل کہتا ہے کہ آپ کے خلاف بیان دے دیا گیا، دوسرا وکیل پہلے وکیل کی تائید کر دیتا ہے، تیسرا وکیل دعویٰ کر دیتا ہے کہ میں نے بھی ذرائع سے کنفرم کیا ہے بات درست ہے۔
کیا بانی پی ٹی آئی اتنی جلدی بات پر یقین کر لیتے ہیں؟ صحافی کے اس سوال پر رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ لوگ بانی پی ٹی آئی کے مزاج کو اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔
گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق شیر افضل مروت کو پارٹی پالیسیوں کی مسلسل خلاف ورزی پر پاکستان تحریک انصاف سے نکالا گیا اور انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑنے کا بھی کہا جائے گا۔