لاہور(پبلک نیوز) پاپولیشن کونسل نے یو این ایف پی اے کے تعاون سے “ آبادی میں توازن کے لیے باخبر عملی اقدامات میں میڈیا کا کردار” کے موضوع پر میڈیا کولیشن آن پاپولیشن کا اجلاس منعقد کیا، جس میں ملک بھر کے قومی، صوبائی اور علاقائی ذرائع ابلاغ سے وابستہ 30 سے زائد صحافیوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں نو تشکیل شدہ نیشنل پاپولیشن کونسل کے کردار، خاندانی منصوبہ سازی تک غریب خواتین کی رسائی میں رکاوٹوں اور بہبودِ آبادی کے حوالے سے حکومتی حکمتِ عملی پر عمل درآمد کی نگرانی میں میڈیا کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر پاپولیشن کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر علی میر نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ آبادی کا مسئلہ صرف ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ پانی کی کمی، تیزی سے ہونے والا شہری پھیلاؤ، زرعی زمین کی کمی ، غذائی قلت، غذائیت کی کمی، خواتین اور بچوں کی تعلیم و صحت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1965ء کے بعد فی کس زرعی زمین میں تقریباً 80 فیصد کمی ہو چکی ہے، اس لیے آبادی میں اضافے اور محدود ہوتے وسائل کے تعلق کو ترقیاتی بحث کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔
صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزارت ِمنصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے ڈپٹی چیف پاپولیشن ، کاظم سلمان نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں قائم نیشنل پاپولیشن کونسل میں چاروں وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور اہم وفاقی وزرا شامل ہیں، جبکہ منصوبہ بندی کمیشن اس کا سیکرٹریٹ ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت خاندانی منصوبہ سازی کو صحت، تعلیم، نوجوانوں کے بہتر مستقبل ، خواتین کی معاشی شمولیت، ہنرمندی اور سماجی تحفظ سے منسلک جامع ترقیاتی ایجنڈے کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔
کاظم سلمان نے کہا کہ بہبودِ آبادی حقوق اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن کا نام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی خودمختاری کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاکہ تمام وفاقی اکائیوں کے ساتھ مل کر ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا جا سکے۔
اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاپولیشن کونسل کی ڈائریکٹر پروگرامز ڈاکٹر ارم کامران نے “کریں زندگی آسان” خاندانی منصوبہ سازی واؤچر ماڈل کے نتائج پیش کیے، جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ کے اشتراک سے رحیم یار خان میں آزمایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دس ماہ کے عرصے کے دوران تقریباً 22 ہزار خواتین کو خدمات فراہم کی گئیں جس سے مانع حمل طریقوں کے استعمال کی شرح 53.5 فیصد سے بڑھ کر 59 فیصد ہو گئی، جبکہ غریب ترین خواتین میں خاندانی منصوبہ سازی کی پوری نہ ہونے والی ضروریات 10.7 فیصد سے کم ہو کر 6.5 فیصد رہ گئی۔ ڈاکٹر ارم کامران نے کہا کہ ایسی خواتین تک رسائی نسبتاً آسان ہے جو خاندانی منصوبہ سازی کرنا چاہتی ہیں مگر ان کو خدمات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سادہ اور قابلِ عمل ماڈل ہے جس کو اب پنجاب کے 14 اضلاع میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
میٹنگ کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ لڑکیوں کی ثانوی و اعلیٰ تعلیم، خواتین کیلئے روزگار کے مناسب مواقع، خاندانی منصوبہ سازی میں مردوں کی شمولیت، لیڈی ہیلتھ ورکرز کے نظام میں بہتری ، تولیدی و زچہ بچہ صحت کی معیاری خدمات اور اس حوالے سے موجود قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو آبادی اور وسائل میں توازن کی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
ڈاکٹر علی میر نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران بہبودِ آبادی کے پروگراموں کی کمی نہیں رہی، اصل چیلنج تسلسل کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کو سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنا ہوگا تاکہ بہبودِ آبادی سے متعلق قومی ترجیحات سیاسی ۔
اپنے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر غلام فرید خان ، پروگرام اینالسٹ ، یو این ایف پی اے نے کہا کہ خاندانی منصوبہ سازی کے لیے مختص وسائل میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس حوالے سے پائیدار سرمایہ کاری اور ملکی وسائل کی فراہمی کو عوامی بحث کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ اجلاس کے اختتام پر میڈیا، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا گیا تاکہ آبادی اور وسائل میں توازن کو پاکستان کے وسیع تر ترقیاتی ایجنڈے کا مستقل حصہ بنایا جا سکے۔