ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی اخراجات میں بھاری کمی اور بچت شدہ رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات اور حکومتی بچت اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے:
تنخواہوں میں کٹوتی: سرکاری ملازمین اور حکومت کے زیرِ سرپرستی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کی جائے گی، جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
بورڈ فیس کی بچت: کارپوریشنز اور دیگر اداروں کے بورڈز میں حکومتی نمائندے اپنی شرکت کی فیس نہیں لیں گے۔
گاڑیوں اور پیٹرول میں کمی: آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں 50 فیصد کمی، اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر یہ پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔
عوامی فلاح کے لیے تنخواہیں: کابینہ ارکان، وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کی اگلے دو ماہ کی تنخواہیں عوامی فلاح کے لیے استعمال ہوں گی۔
سفری اور خریداری پابندیاں: وزرا اور افسران کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی، سرکاری خریداری اور نئی گاڑیوں پر مکمل پابندی۔ ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے گی۔
سفارت خانوں میں سادگی: تمام پاکستانی سفارت خانوں میں 23 مارچ کی تقریبات سادگی سے منائی جائیں گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام اقدامات کی روزانہ نگرانی متعلقہ سیکریٹریز کریں اور جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سطح پر سادگی اپنا کر عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔