(ویب ڈیسک): پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے تازہ ترین سروے میں ملکی معیشت، بجٹ ترجیحات، گورننس اور عوامی آراء سے متعلق اہم اور ہوش ربا اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔
سروے کے مطابق قریباً 18 فیصد (یعنی ہر پانچ میں سے ایک) پاکستانیوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کسی نہ کسی سرکاری اہلکار نے ان سے رشوت طلب کی۔ شہریوں کی رائے میں کوئی بھی ایک سرکاری ادارہ عوام کا مکمل اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی بجٹ کا قریباً 42.9 فیصد (لگ بھگ 43 فیصد) حصہ صرف اور صرف ملکی و غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور سود پر خرچ ہو جاتا ہے۔دفاع، صحت، تعلیم اور سبسڈیز کا مجموعی حجم بھی قرضوں کی ادائیگی پر ہونے والے کل اخراجات سے کم ہے۔ صحت کے شعبے کے لیے وفاقی بجٹ کا محض 0.1 فیصد حصہ ہی مختص کیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق 19 فیصد شہریوں نے بجلی اور قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔91 فیصد شہریوں کا ماننا ہے کہ ملک میں نیا کاروبار شروع کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔کاروباری آغاز کے حوالے سے 91 فیصد افراد نے موجودہ پیچیدہ ٹیکس نظام کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ 42 فیصد شہری اب روایتی ٹی وی چینلز کے بجائے خبروں کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں۔ 56 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل دور معاشرتی اور اخلاقی اقدار میں تنزلی کا باعث بن رہا ہے۔