ویب ڈیسک: ایران کی فضائی حدود کی محدودیت اور کمرشل پروازوں کے متبادل راستوں پر منتقل ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی ایک نیا اور خطرناک مرحلہ اختیار کر چکی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے اشارے واضح ہو گئے ہیں۔
ایران نے امریکا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنی فضائی حدود عارضی طور پر صرف اجازت یافتہ بین الاقوامی پروازوں تک محدود کر دی ہیں۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق، یہ پابندیاں چند گھنٹوں کے لیے عائد کی گئیں، جس کے نتیجے میں متعدد ایئرلائنز نے ایران کے اوپر سے گزرنے والی پروازیں معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کر دیں۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مغربی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کا ایران پر حملہ قریب ہو سکتا ہے، حالانکہ موجودہ امریکی حکمتِ عملی بھی ممکنہ طور پر دباؤ بڑھانے کا حصہ ہو سکتی ہے۔ یورپی حکام کے مطابق، امریکی فوجی مداخلت 24 گھنٹوں کے اندر ہو سکتی ہے، جبکہ اسرائیلی عہدیداروں نے عندیہ دیا ہے کہ صدر ٹرمپ حملہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اگرچہ اس کی نوعیت اور وقت ابھی واضح نہیں۔
امریکا نے ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں سے عملہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ ایک ایرانی عہدیدار کے بیان کے مطابق، اگر امریکا نے حملہ کیا تو ایران خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
فضائی سکیورٹی ماہرین کے مطابق، میزائل اور ڈرون حملوں کے بڑھتے خطرات شہری ہوابازی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ او پی ایس گروپ کے مطابق، کئی ایئرلائنز نے ایران کے لیے اپنی سروسز معطل کر دی ہیں یا کم کر دی ہیں، اور زیادہ تر کیریئرز ایرانی فضائی حدود سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود بند ہونے سے اس کی بعض پروازیں متاثر ہوں گی، جبکہ روسی ایئرلائن ایرو فلوٹ کی تہران جانے والی پرواز کو واپس ماسکو موڑنا پڑا۔ جرمنی نے اپنی ایئرلائنز کو ایرانی فضائی حدود میں نہ جانے کی ہدایات جاری کی ہیں، اور کئی دیگر ایئرلائنز جیسے لفتھانزا، ترکش ایئرلائنز اور فلائی دبئی نے ایران کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی فضائی حدود کا بند ہونا عموماً کسی ممکنہ فوجی کارروائی کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے، تو اس کا فوری فائدہ نظر نہیں آتا، بلکہ اس سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا اور عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈی، شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ دوسری طرف، صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کے لیے دیے گئے بیانات اور سخت انتباہات نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔