بوکھلاہٹ کا شکاربھارتی فوج کی پھر گیدڑبھبکیاں

بوکھلاہٹ کا شکاربھارتی فوج کی پھر گیدڑبھبکیاں
کیپشن: بوکھلاہٹ کا شکاربھارتی فوج کی پھر گیدڑبھبکیاں

ویب ڈیسک: بھارتی فوج کے مغربی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کاتیار نے پاکستان کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ براہِ راست جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تاہم وہ پہلگام جیسے دہشت گرد حملوں کی دوبارہ کوشش کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ایسا ہوا تو بھارت کا ردِعمل " آپریشن سندور 2.0" کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز اور طاقتور ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران لیفٹیننٹ جنرل منوج کاتیار نے کہا کہ پاکستان ’ہزار زخموں‘ کی پالیسی پر گامزن ہے اور وہ شرپسندانہ کارروائیوں کے ذریعے بھارت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بقول، پاکستان محاذ آرائی نہیں چاہتا کیونکہ اس کے پاس براہِ راست جنگ لڑنے کی سکت نہیں، اس کے باوجود وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، اور اگر پاکستان کی جانب سے دوبارہ کسی دہشت گرد حملے کی کوشش ہوئی تو بھارتی ردِعمل ماضی سے زیادہ سخت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ " آپریشن سندور" کے دوران پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اس کی چوکیوں اور فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن امکان ہے کہ وہ مستقبل میں دوبارہ ایسی کارروائیاں کرنے کی کوشش کرے۔

بھارتی جنرل کے مطابق، پاکستان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ دوبارہ دہشت گردانہ حملوں کی کوشش کرسکتا ہے، تاہم بھارتی افواج ہر وقت چوکس ہیں اور کسی بھی ناپاک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارتی فوجی قیادت کے اس قسم کے بیانات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں، جب کہ امن کے خواہاں حلقے اس صورتحال میں تحمل اور سفارتی رابطوں کے تسلسل پر زور دے رہے ہیں۔

Watch Live Public News