(ویب ڈیسک ) ایف پی سی سی آئی کے رہنماایس ایم تنویر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے موجودہ پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک معیشت کی فوری ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ جب مہنگائی قابو میں ہے اور کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) نمایاں طور پر کم ہے، تو اس صورتحال میں بلند شرح سود کو برقرار رکھنا معیشت کی ترقی کو روک رہا ہے اور کاروباری طبقے و صارفین کو مزید مشکلات میں ڈال رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بلند پالیسی ریٹ سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے، روزگار کے مواقع کم کر رہا ہے، اور صنعتی شعبے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہا ہے، جو ہماری معیشت کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ اُن کی رائے میں معیشت کی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پالیسی ریٹ کو کم کر کے 6 فیصد تک نہ لایا جائے۔ اس اقدام سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ کاروباری اداروں کے لیے قرضے حاصل کرنا بھی آسان ہوگا، جس سے ترقی اور خوشحالی ممکن ہو گی۔
اُنہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں کو علاقائی سطح پر مقابلے کے قابل یعنی 9 سینٹ فی کلو واٹ آور تک لانا ناگزیر ہے۔ یہ ترمیم کاروباری لاگت کو کم کرنے، برآمدات میں مسابقت بڑھانے، اور مجموعی طور پر اقتصادی خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا موجودہ پالیسی ریٹ 11.00 فیصد ہے، جو مئی 2025 سے بدستور اسی سطح پر ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے حالیہ اجلاس میں، جو 15 ستمبر 2025 کو ہوا، شرح سود کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالیہ سیلابوں کے باعث ممکنہ طور پر خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور کرنسی پر دباؤ کے خدشات کے پیش نظر اس فیصلے میں احتیاط برتی گئی۔
یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے پیٹرن ان چیف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پالیسی ریٹ پر نظرثانی میں مزید تاخیر نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات ایک زیادہ نرم مالیاتی پالیسی کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ معیشت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے اور کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کی جا سکے۔اس اہم فیصلے میں تاخیر پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ بنے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت فوری طور پر اقدامات کرے تاکہ اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول یقینی بنایا جا سکے۔