ایران کے منجمدشدہ100ارب ڈالر کے اثاثے کہاں موجود ہیں؟

ایران کے منجمدشدہ100ارب ڈالر کے اثاثے کہاں موجود ہیں؟
کیپشن: ایران کے منجمدشدہ100ارب ڈالر کے اثاثے کہاں موجود ہیں؟

ویب ڈیسک: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کا آغاز ہو گیا ہے، تاہم ابتدائی بات چیت میں ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں، جو تہران کا بنیادی مطالبہ ہے۔

پاکستان کی کوششوں سے جاری ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہے۔ رواں برس ایران اور امریکا عسکری محاذ پر آمنے سامنے آ چکے ہیں، جبکہ دونوں کے درمیان معاشی دباؤ اور پابندیوں پر مبنی تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

حالیہ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو مرکزی مسئلہ قرار دیا گیا، جبکہ ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ منجمد اثاثوں تک رسائی کسی اضافی رعایت کا معاملہ نہیں بلکہ ایران کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی بھی شریک تھے۔

مذاکرات سے قبل ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ بامعنی بات چیت اسی صورت ممکن ہے جب ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔

ادھر ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ابتدائی طور پر قطر میں موجود تقریباً 6 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم واشنگٹن نے اس کی تردید کر دی اور اس معاملے پر کوئی اتفاق نہ ہو سکا۔

ماہرین کے مطابق جب کسی ملک کے مالی وسائل، جائیداد یا سرمایہ کو بیرونِ ملک پابندیوں یا قانونی وجوہات کی بنیاد پر روک دیا جائے تو اسے اثاثے منجمد کرنا کہا جاتا ہے، جس کے باعث متعلقہ ملک ان وسائل کے استعمال سے محروم ہو جاتا ہے۔

اندازوں کے مطابق ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت 100 سے 120 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جن میں بڑی مقدار تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن شامل ہے جو پابندیوں کے باعث ایران منتقل نہیں ہو پا رہی۔

ایران کے اثاثے پہلی بار 1979 میں اس وقت منجمد کیے گئے جب تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے بعد امریکا نے ایران کے اربوں ڈالر روک دیے۔ بعد ازاں کچھ رقم واپس کی گئی، تاہم بڑی مقدار مختلف دعوؤں اور پابندیوں کے باعث بدستور منجمد رہی۔

وقت گزرنے کے ساتھ امریکی پابندیوں میں اضافے کے باعث یہ رقم بڑھتی گئی اور آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں ایرانی اثاثے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں رکے ہوئے ہیں۔

سن 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ایران کو محدود حد تک اپنے اثاثوں تک رسائی ملی، تاہم 2018 میں امریکا کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں اور اثاثے ایک بار پھر منجمد ہو گئے۔

پابندیوں کے ردعمل میں ایران نے متبادل مالی طریقوں، خصوصاً کرپٹو کرنسی کے استعمال کی طرف رجوع کیا تاکہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کی پابندیوں سے بچا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے اثاثے امریکا، چین، عراق، جاپان اور دیگر ممالک میں موجود ہیں، جبکہ کچھ رقوم مخصوص شرائط کے تحت محدود استعمال کے لیے دستیاب بھی رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کو اپنے منجمد اثاثوں تک مکمل رسائی مل جائے تو معیشت کو فوری سہارا مل سکتا ہے اور مالی و سماجی دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔

اسلام آباد میں 11 اپریل کو ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات میں ایران نے تمام منجمد اثاثوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا تھا اور اعتماد سازی کے لیے ابتدائی طور پر 6 ارب ڈالر جاری کرنے کی تجویز دی تھی۔

ابتدائی مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم اب دوسرے دور میں تکنیکی نکات پر پیش رفت کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے کوششیں جاری ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ مرحلے میں کسی مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق ہو سکتا ہے۔

Watch Live Public News