ویب ڈیسک: سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جو2،2 سال سےاندر ہیں۔ ان کے گھروں میں قیامت ہے، کھانے کو کچھ نہیں، چیف جسٹس صاحبہ سے ہاتھ جوڑ کر اپیل ہے کہ ان لوگوں کی اپیلیں سنی جائیں۔
راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کی ہے۔ اپنے بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ چیف جسٹس صاحبہ سے اپیل کرتا ہوں کہ لوگوں کی اپیلیں سنی جائیں ۔ لوگ دو دو سالوں سے اندر ہیں ان کی اپیل نہیں سنی جا رہی ان کے گھروں میں قیامت ہے۔ جو لوگ اس وقت اندر ہیں ان کے گھروں میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ چیف جسٹس صاحبہ سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ لوگوں کی اپیلیں سنیں۔ مہنگائی کا طوفان ہے،دکانداروں کو بغیر کسی وجہ کے ہزاروں روپے جرمانہ کیا جا رہا ہے ۔ آدھا شہر سیل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ 20 ہزار جرمانے کو 5 ہزار روپے کیا جائے۔ آٹے کی جو صورتحال ہے تندوروں پر 50 ہزار روپے جرمانہ کیا جا رہا ہے۔ بڑی زیادتی ہے، مہنگائی کو کم کیا جائے اور آٹا سستا کیا جائے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کیا جائے، ہاتھ جوڑ کر اپیل ہے کہ لوگوں کی اپیلیں سنی جائیں۔