ویب ڈیسک: ایران کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں کم از کم 35 افراد شہید جبکہ 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ رات بھی امریکی حملوں کا پانچواں سلسلہ جاری رہا، جس میں جنوبی ساحلی علاقوں سمیت متعدد اہم اور تزویراتی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایران کے سب سے بڑے جزیرے قشم اور بندر عباس میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز پر واقع اہم بندرگاہی شہر سیرک سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں چابہار، کنارک اور راسک سمیت مختلف علاقوں میں دھماکے رپورٹ کیے گئے۔
ادھر اہواز میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کئی دھماکے ہوئے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ایک حملے میں ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد مریضوں اور عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ بچوں کے کینسر کے علاج کے ایک اسپتال کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کے تحت خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تنازع مکمل جنگ کی صورت اختیار کر گیا تو نہ صرف شہریوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوگی۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے گریز کرتے ہوئے سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل کی کوشش کریں۔