دل کی صحت جانچنے کیلئے بلڈپریشر کتنی مرتبہ چیک کرنا چاہیے؟

دل کی صحت جانچنے کیلئے بلڈپریشر کتنی مرتبہ چیک کرنا چاہیے؟
کیپشن: دل کی صحت جانچنے کیلئے بلڈپریشر کتنی مرتبہ چیک کرنا چاہیے؟

ویب ڈیسک: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بلند فشارِ خون (بلڈپریشر) ایک خاموش قاتل ہے، جس کی ابتدائی مرحلے میں کوئی نمایاں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ یہ دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، باقاعدگی سے فشارِ خون کی جانچ دل کو محفوظ رکھنے کا ایک آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فشارِ خون چیک کرنے کی ضرورت ہر فرد کے لیے یکساں نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار عمر اور مجموعی صحت پر ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص صحت مند ہے اور اس کا فشارِ خون معمول کے مطابق رہتا ہے تو سال میں ایک یا دو مرتبہ (ہر چھ سے بارہ ماہ بعد) معائنہ کافی ہوتا ہے۔

ذیابیطس، موٹاپے یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم ایک بار یا معالج کی ہدایت کے مطابق اپنا فشارِ خون چیک کریں۔

جن افراد کو بلند فشارِ خون کا مرض لاحق ہو چکا ہو، انہیں گھر پر روزانہ بنیادوں پر نگرانی کرنی چاہیے تاکہ ادویات کے اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

فشارِ خون چیک کرنے کا درست وقت اور طریقہ

ماہرینِ صحت کے مطابق درست نتیجہ حاصل کرنے کے لیے وقت اور طریقہ کار نہایت اہم ہیں۔

فشارِ خون چیک کرنے کا بہترین وقت صبح ہے، جب نہ ناشتہ کیا ہو اور نہ دوا لی ہو۔ اس کے علاوہ شام کے وقت بھی جانچ کی جا سکتی ہے۔

جانچ سے پہلے کم از کم پانچ منٹ سکون سے بیٹھنا چاہیے اور چائے، کافی، سگریٹ یا ورزش کے فوراً بعد فشارِ خون چیک کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

فشارِ خون لیتے وقت سیدھا بیٹھیں، کمر کرسی سے لگی ہو، پاؤں زمین پر رکھے ہوں اور بازو دل کی سطح کے برابر کسی سہارے پر ہو تاکہ درست نتیجہ حاصل ہو۔

جانچ سے پہلے پانچ منٹ پُرسکون بیٹھنا ضروری ہے، جبکہ مثانہ خالی ہونا چاہیے کیونکہ بھرا ہوا مثانہ وقتی طور پر فشارِ خون میں اضافہ کر سکتا ہے۔

اگر فشارِ خون کی پیمائش مسلسل 140/90 سے زائد آ رہی ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ اسی طرح سر درد، چکر، سینے میں درد یا سانس لینے میں دشواری کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔

اگر گھر میں فشارِ خون ناپنے کا آلہ موجود نہ ہو تو صحت مند افراد کو ہر چھ سے بارہ ماہ بعد معالج سے معائنہ کروانا چاہیے، جبکہ زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو تین سے چھ ماہ کے دوران جانچ کروانا بہتر ہے۔

دل کو صحت مند رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر

صرف نگرانی کافی نہیں، بلکہ طرزِ زندگی میں بہتری بھی ضروری ہے:

غذا میں نمک کا استعمال کم کریں اور پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھائیں۔

ہفتے میں کم از کم ڈیڑھ سو منٹ پیدل چلنا یا تیراکی کرنا دل کے لیے مفید ہے۔

یوگا، مراقبہ اور گہری سانس کی مشقیں فشارِ خون کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

وزن کو قابو میں رکھیں، کیونکہ بڑھتا ہوا وزن اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔

تمباکو نوشی اور نشہ آور مشروبات سے مکمل اجتناب کریں۔

باقاعدہ جانچ اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے دل کی خطرناک بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ یاد رکھیں، احتیاط علاج سے بہتر ہے۔
 
 

Watch Live Public News