ویب ڈیسک: پاکستان میں صارف اعتماد اشاریہ 86.4 کی سطح پر پہنچ چکا ہے، جو پچھلے سال اسی مدت میں 72.9 تھا، جس سے عوامی اعتماد میں سال بہ سال نمایاں بہتری کا پتہ چلتا ہے۔
گیلپ پاکستان اور ڈی اینڈ بی پاکستان کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، اگرچہ سہ ماہی بنیاد پر اشاریہ میں کمی آئی ہے، مجموعی رجحان پچھلے سال کے مقابلے میں بہتر ہے۔ مستقبل کا اشاریہ 98.2 ہے، جو احتیاطی امید کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ موجودہ حالات کا اشاریہ 74.7 عوامی مشکلات کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے باوجود، مستقبل کے بارے میں عوام کا اعتماد نسبتاً مضبوط ہے۔
رپورٹ کے مطابق:
61.6 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں ان کی گھریلو مالی حالت بہتر یا کم از کم برقرار رہے گی۔
گھریلو آمدن پر اعتماد مثبت ہے، اور 63 فیصد افراد کی توقع ہے کہ آمدن بڑھنے یا برقرار رہنے کا امکان ہے۔
84.3 فیصد افراد نے بتایا کہ روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اور قیمتوں کے بارے میں نیٹ انڈیکیٹر 32.8ہے، جو عوامی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
بے روزگاری کا نیٹ انڈیکیٹر 69.1 ہے، جس سے روزگار مارکیٹ پر دباؤ کا اشارہ ملتا ہے۔ موجودہ بے روزگاری سے متعلق نیٹ انڈیکیٹر 56.5 ہے، اور عوامی رائے میں فوری بہتری کی خواہش واضح ہے۔
گھریلو بچتوں کا مجموعی نیٹ انڈیکیٹر 81.3 ہے، جو بچت کی گنجائش کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں اعتماد میں زیادہ کمی دیکھی گئی ہے، اور خاص طور پر 30 تا 49 سال کے عمر گروپ میں اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مہنگائی اور روزگار پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ دونوں عوامی دباؤ کے بڑے عوامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ "ڈیٹا بتاتا ہے کہ سال بہ سال صارف اعتماد میں بہتری آ رہی ہے، لیکن مہنگائی اور روزگاری کے مسائل پر ہدفی اقدامات فیصلہ کن ہوں گے۔" رپورٹ میں 2,132 افراد سے سروے کیا گیا ہے، جس میں 2.2 فیصد غلطی کی گنجائش موجود ہے، اور یہ سروے عوامی رائے کا معتبر اشاریہ ہے۔