(ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور قطر میں اپنے شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیل نہ کرتے تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی ، ڈیل نہ کرتے تو بمباری ہفتوں،مہینوں چلتی رہتی، اب ڈیل ہوگئی ہے ، تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں ، ایران کی بحریہ ، فضائیہ سب تباہ ہو چکی ہے، ایران کی قیادت ختم ہوچکی ہے لیکن اب ان کی نئی قیادت آچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں رجیم چینج ہوچکی ہے، نئی قیادت آچکی ہے ، ایرانی قیادت اسمارٹ ہے۔ جی سیون ممالک سے ایران معاہدے کی تفصیلات پر بات کی ہے،جی سیون ممالک بہت خوش ہیں کہ ہم نے ایران سے معاہدہ کرلیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ دنیا میں معیشت کی زبوں حالی نہیں چاہتا تھا، میں جنگ جاری رکھ سکتا تھا لیکن میں پوری دنیا میں کساد بازاری نہیں چاہتا،جیسے ہی ہم امن کی بات کرتے ہیں ، اسٹاک مارکیٹ راکٹ کی طرح اوپر جاتی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو سے لبنان کے معاملے پر اختلاف ہے، نیتن یاہو بعض اوقات کچھ جذباتی ہوجاتا ہے لیکن اچھا ساتھی رہا ہے۔ اسرائیل حزب اللہ کے معاملے میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہے، اسرائیل کو دفاع کا حق ہے مگر بیروت کی عمارتیں تباہ کرنا ٹھیک نہیں ۔اتوار کو جو ڈیل ہوئی ہے ، اس پر جلد دستخط ہوں گے، ایران راضی ہے کہ وہ ہن ایٹم بم بنائے گا اور نہ حاصل کرے گا،مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی اسرائیل کو بھیجی ہے۔ہم ایران سے افزودہ جوہری مواد نکال کر ناکارہ بنائیں گے، ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک کر پوری دنیا کو تباہی سے بچایا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور قطر نے مذاکرات کیلئے بہت کام کیا۔جوہری ذخائر سے متعلق تکنیکی بات چیت بھی جلد شروع ہوجائے گی ، خلیجی ممالک سے بھی نان نیوکلیئر معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں ، ایران نے معاہدے کا احترام نہ کیا تو بمباری پر واپس جائیں گے،دوبارہ ہونے والی بمباری تب تک نہیں رکے گی جب تک وہ معاہدے پر نہ آجائیں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران کی تعیمیر نو میں سرمایہ نہیں لگائے گا، ایران کے پڑوسی ملک ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ، ایران کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،ہوسکتا ہے ایران میں 2 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہو،