ویب ڈیسک: کراچی کے سب سے بڑے جناح ہسپتال میں مبینہ طور پر طبی عملے کی غفلت کے باعث 17 سالہ نثار علی انتقال کر گیا، جس کے بعد ورثا نے شدید احتجاج کیا۔
تفصیلات کے مطابق لواحقین کا کہناہے کہ نوجوان نثار علی سانس کی تکلیف میں مبتلا تھا اور ہسپتال لانے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے آئی سی یو میں منتقل کرنے کی تجویز دی۔ تاہم، اہل خانہ کا الزام ہے کہ آئی سی یو میں بیڈ دستیاب ہونے کے باوجود مریض کو داخل نہیں کیا گیا، جس پر ورثا اور ڈاکٹروں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
واقعے کے بعد میڈیکل آئی سی یو میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس دوران تیمارداروں کی جانب سے ڈاکٹروں پر مبینہ تشدد بھی کیا گیا اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
نوجوان کے انتقال پر مشتعل اہل خانہ نے نثار علی کی لاش کو صدر تھانے کے باہر رکھ کر احتجاج کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب جناح ہسپتال انتظامیہ کا کہناتھا کہ مریض کی حالت لانے کے وقت ہی نازک تھی، وہ انفیکشن کا شکار تھا اور ڈاکٹروں نے حتی الامکان کوشش کی، تاہم مریض جانبر نہ ہو سکا۔