اروناچل پردیش میں  مواصلاتی پابندیاں، سرحدی کشیدگی چھپانے کے لیے شہریوں کے موبائل فون ضبط کیے جارہے ہیں

اروناچل پردیش میں  مواصلاتی پابندیاں، سرحدی کشیدگی چھپانے کے لیے شہریوں کے موبائل فون ضبط کیے جارہے ہیں
کیپشن: اروناچل پردیش میں  مواصلاتی پابندیاں، سرحدی کشیدگی چھپانے کے لیے شہریوں کے موبائل فون ضبط کیے جارہے ہیں

ویب ڈیسک: اروناچل پردیش کے بالائی سبانسری ضلع کے دور افتادہ سرحدی دیہات تاکسنگ اور گیلیمو کے رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی فوج کے اہلکاروں نے مقامی افراد کے موبائل فون زبردستی اپنے قبضے میں لے لیے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرحدی صورتِ حال اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بڑھتی ہوئی سکیورٹی تشویش سے متعلق معلومات کو منظرِ عام پر آنے سے روکنا ہے۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تاکسنگ اور گیلیمو میں شہریوں کے موبائل فون ضبط کیے گئے تاکہ سرحدی علاقوں کی زمینی صورتِ حال باہر نہ پہنچ سکے۔ سرحدی آبادی کے بعض افراد نے الزام لگایا ہے کہ انہیں حساس سکیورٹی سرگرمیوں کے بارے میں خاموش رہنے کی ہدایت اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی سطح پر رابطے کے ذرائع محدود کیے جانے سے فوج اور سرحدی آبادی کے درمیان اعتماد متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں مقامی آبادی کی آواز دبانے سے اہم زمینی معلومات کے حصول میں خلا پیدا ہو سکتا ہے، جو خود سکیورٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مواصلاتی پابندیوں سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر پیش آنے والی مشکلات اور ممکنہ آپریشنل خامیوں کو عوامی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماضی میں بھی اس خطے میں سرحدی نگرانی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، جبکہ چین کی جانب سے دریائے تساری چو کے قریب متنازع علاقے میں تقریباً 100 گھروں پر مشتمل آبادی قائم کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

 مقامی حلقوں کے مطابق طویل عرصے سے بنیادی ڈھانچے اور سرحدی علاقوں پر توجہ کی کمی نے روایتی چراگاہوں اور حساس مقامات تک مقامی آبادی کی رسائی کو متاثر کیا ہے۔

 ایک جانب چین سرحدی علاقوں میں جدید دیہات اور بنیادی ڈھانچہ تیزی سے تعمیر کر رہا ہے، دوسری جانب بھارتی سرحدی آبادیوں کو اب بھی سڑکوں، مواصلات اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں شہریوں پر دباؤ بڑھانے کے بجائے سڑکوں، ٹیلی کمیونیکیشن اور مقامی رابطہ کاری کو مضبوط بنانا زیادہ مؤثر سکیورٹی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کے الزامات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا حکام زمینی حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے مقامی آبادی کی آواز محدود کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

Watch Live Public News