(ویب ڈیسک ) وطن سے محبت میں جان نچھاور کرنا پاک فوج کے سپاہیوں کی پہچان ہے، جان قربان کرنے والے عظیم سپوتوں کی قربانیوں نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
دفاع وطن میں جان قربان کرنے والی داستانوں میں سے ایک نائیک محمد شریف کی ہے۔ نائیک محمد شریف شہید نے 9 نومبر 2024 کو بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف لڑتے ہوئے مادرِ وطن کے لئے شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔
نائیک محمد شریف شہید کا تعلق مظفر گڑھ سے ہے، نائیک محمد شریف شہید نے سوگواران میں والدین اور بہن بھائی چھوڑے۔
نائیک محمد شریف شہید کے لواحقین نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کیا ہے۔نائیک محمد شریف شہید کی والدہ کا کہنا ہے کہ محمد شریف کے والد کی خواہش تھی کہ بیٹا تعلیم حاصل کر کے آرمی جوائن کرے، 25 نومبر کو بیٹے کی شادی ہونی تھی، اس کے لئے تیاری کر رہے تھے، بیٹے کی شہادت کا بہت دکھ ہے مگر اللہ کی رضا میں راضی ہوں، بہت فخر ہے کہ بیٹا وطن کے لیے شہید ہوا، بیٹے کی شہادت کا صدمہ بہت ہے مگر خوشی ہے اللہ نے اس کو اتنا بڑا رتبہ عطا کیا۔
نائیک محمد شریف شہید کی بہن نے کہا کہ میرے 20 بھائی بھی ہوتے تو پاک فوج کے لیے قربان کر دیتی، بھائی نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا جو ہمارے لیے باعث فخر ہے۔
محمد شریف شہید کے بھائی نے کہا کہ بھائی بہت اچھا اور ملنسار تھا، بھائی کے جانے کے بعد ہماری زندگی میں ویرانی آگئی ہے، شہید کا بھائی ہونے کی وجہ سے خاندان اور علاقے میں بہت عزت ملتی ہے۔
نائیک محمد شریف شہید کے دینی معلم نے کہا کہ محمد شریف نے میرے پاس دینی علم حاصل کیا، وہ بہت قابل تھا،اکثر کہتا تھا کہ بڑا ہو کر پاک آرمی جوائن کروں گا، اللہ کا کرم ہے کہ وہ پاک آرمی میں بھرتی ہوا اور شہید ہو گیا، مجھے، باحیثیت اس کا استاد اور پورے اہل علاقہ کو اس کی شہادت پر فخر ہے، اللہ اس کی طرح نیک اولاد ہر کسی کو عطا کرے۔
نائیک محمد شریف کی شجاعت اور بہادری تاریخ کا ایک روشن باب ہے، نائیک محمد شریف شہید کی قربانی ہماری قوم کا سرمایہ ہے اور شہداء کی یہ عظیم قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت ہے۔