ویب ڈیسک: (علی زیدی) اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت پانچویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران امریکہ میں حکام اسرائیل کے جدید میزائل دفاعی نظام کے تیزی سے ختم ہوتے ذخائر پر شدید پریشان ہیں۔
پریس ٹی وی ڈاٹ آئی آر ویب سائٹ نے مڈل ایسٹ آئی کی خبر رپورٹ کی ہے۔ جس کے مطابق، ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیل بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے اپنے انٹرسیپٹرز کو بہت تیزی سے استعمال کر رہا ہے، جس سے امریکی دفاعی ماہرین میں بے چینی بڑھ گئی ہے، خاص طور پر ایسے حلقے جو یہ خدشہ رکھتے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران پر براہ راست حملہ کیا تو ایران کا سخت ردعمل اسرائیل کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایرانی فوجی آپریشن ’ٹریو پرامس III‘ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوجی اور دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ خاص طور پر Arrow دفاعی نظام، جو کہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ منصوبہ ہے، مہنگا اور دوبارہ حاصل کرنا مشکل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ نیا نہیں بلکہ اپریل 2024 میں ایران کے شامی سفارتی مشن پر اسرائیلی حملے کے جواب میں شروع ہونے والے ’ٹریو پرامس I‘ کے بعد سے ہی اسرائیل انٹرسیپٹرز کی قلت کا شکار ہے۔
سابق امریکی محکمہ دفاع کے افسر ڈین کالڈویل نے خبردار کیا کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں کو جلد ہی اپنے دفاعی ذخائر کو بھرناپڑ سکتا ہے، کیونکہ یمن سے ہونے والے حملوں کے خلاف بھی یہی ذخائر استعمال کیے گئے ہیں۔
ایک سابق امریکی عہدیدار جو اسرائیل کی غزہ پر کارروائیوں کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہو چکے ہیں، نے کہا کہ اصل مسئلہ میزائلوں سے زیادہ لانچرز کی کمی کا ہے۔
ادھر تین عرب سفارتی ذرائع نے قطری ویب سائٹ کو بتایا کہ اسرائیل کے خلاف ایرانی کارروائیوں کے بعد امریکہ کا براہ راست مداخلت کرنا اب ایک واضح امکان بنتا جا رہا ہے، اور واشنگٹن کو کئی حلقے پہلے ہی "فریقِ جنگ" قرار دے چکے ہیں۔
رپورٹ میں ایک امریکی دفاعی اہلکار کا یہ بیان بھی شامل ہے کہ امریکی بحریہ نے مشرقی بحیرہ روم سے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے SM-3 انٹرسیپٹرز استعمال کیے، مگر یہ بھی محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔
دوسری جانب، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران کو براہ راست دھمکی دی اور قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ ہنگامی اجلاس کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور واشنگٹن میں موجود اسرائیلی لابی کے دباؤ میں ہیں، جو انہیں ایران پر حملے کے لیے آمادہ کر رہی ہے، حالانکہ ان کے کئی مشیر اس اقدام کے خلاف خبردار کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر "بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈال دو!" کا پیغام دیا، جسے ایران کے خلاف ایک اور دھمکی اور نیتن یاہو سے ہم آہنگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔