ویب ڈیسک: پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو نقصان پہنچانے کے بھارتی خواب مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں ایرانی جنگی طیاروں کی موجودگی سے متعلق بے بنیاد بھارتی پروپیگنڈا پہلے ہی جھوٹ اور گمراہ کن معلومات ثابت ہو چکا ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق نئی دہلی کے دعوے خطے میں جاری نازک مگر برقرار استحکام سے واضح طور پر متصادم ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی بھارت کی بار بار کی کوششیں بھی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی اور عوامی سطح پر ثالثی عمل میں پاکستان کے مسلسل کردار کی کھل کر حمایت کی ہے۔ ٹرمپ نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو “great” اور “absolutely fantastic” قرار دیتے ہوئے امریکی داخلی تنقید کے باوجود اسلام آباد کی اسٹریٹجک اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا۔
بھارت کی اپنی ثالثی کوششیں اس کے سخت گیر مؤقف اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ گہرے اعتماد کے فقدان کے باعث بارہا ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔ اسلام آباد کی متوازن، ذمہ دارانہ اور تدبر پر مبنی سفارتکاری عالمی سطح پر مسلسل پذیرائی حاصل کر رہی ہے، جو واضح کرتی ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے اور اس کے کردار کو سبوتاژ کرنے کے بھارتی عزائم کامیاب نہیں ہوں گے۔ ثالثی کے میدان میں پاکستان کی مستقل، پُراعتماد اور سنجیدہ قیادت نئی دہلی کے کمزور پڑتے علاقائی اثر و رسوخ کے مقابل مضبوطی سے کھڑی ہے۔
واضح بین الاقوامی حمایت کے ساتھ پاکستان کا سفارتی مقام مزید مستحکم ہو رہا ہے جبکہ بھارت کی تنہائی پیدا کرنے کی حکمتِ عملی تیزی سے غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
کیپشن: پاکستان کے مؤثر ثالثی کردار کو سبوتاژ کرنے کے بھارتی عزائم ناکامی سے دوچار