امریکی عدالت کا محمود خلیل کو فوری ملک بدر کرنے کا حکم

امریکی عدالت کا محمود خلیل کو فوری ملک بدر کرنے کا حکم
کیپشن: امریکی عدالت کا محمود خلیل کو فوری ملک بدر کرنے کا حکم

ویب ڈیسک: امریکی ریاست لوزیانا کی ایک امیگریشن عدالت نے فلسطینی حامی احتجاجی رہنما اور کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم محمود خلیل کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق خلیل کو الجزائر یا متبادل طور پر شام بھیجا جائے گا۔

"عرب نیوز کے مطابق، امیگریشن جج جیمی کومانز نے 12 ستمبر کو جاری کیے گئے اپنے فیصلے میں کہا کہ خلیل نے اپنی گرین کارڈ کی درخواست میں جان بوجھ کر کچھ اہم حقائق کو چھپایا اور یہ کہ یہ عمل صرف لاعلمی یا غفلت نہیں بلکہ ایک جان بوجھ کر غلط بیانی تھی، جس کا مقصد دھوکہ دہی کے عمل کو کم کرنا تھا۔ جج نے مزید کہا کہ اگر اس طرح کی غلط بیانی کے باوجود استثنیٰ دی جاتی ہے تو مستقبل کے درخواست دہندگان بھی خطرہ مول لینے کو تیار ہوں گے۔

کومانز نے خلیل کی ملک بدری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ عدالت کے مطابق،اس اقدام سے مستقبل کے درخواست گزاروں کو غلط پیغام جائے گا۔

دوسری جانب خلیل کی قانونی ٹیم نے جج کومنز کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے نیو جرسی کی ایک وفاقی عدالت میں ایک خط جمع کرایا ہے۔ ان کے وکلاء نے کہا ہے کہ اپیل دائر کی جائے گی اور قانونی جنگ جاری رہے گی۔

امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU)، جو اس کیس میں خلیل کی نمائندگی کر رہی ہے، نے عدالت کے الزامات کو "بے بنیاد اور انتقامی" قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق ’غلط بیانی‘ کے یہ الزامات دراصل خلیل کی گرفتاری کے بعد انتقامی بنیادوں پر شامل کیے گئے تھے۔

خلیل نے کہا، "یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میری آزادی اظہار کو سزا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا جب ان کی پہلی کوشش ناکام ہوئی تو انہوں نے مجھے خاموش کرنے کے لیے جھوٹے اور مضحکہ خیز الزامات لگائے، لیکن اس طرح کے ہتھکنڈے مجھے اپنی قوم کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے اور فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے سے نہیں روکیں گے۔

یاد رہے کہ محمود خلیل امریکہ کے قانونی طور پر مستقل رہائشی ہیں، انہوں نے ایک امریکی شہری سے شادی کی ہے اور ان کا ایک بیٹا بھی امریکہ میں پیدا ہوا ہے۔ اسے امیگریشن حکام نے اس سال مارچ میں تین ماہ تک حراست میں رکھا، پھر جون میں رہا کر دیا گیا، لیکن اسے بدستور ملک بدری کے خطرے کا سامنا ہے۔

Watch Live Public News