ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایسا متنازع نقشہ شیئر کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقے کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، جس پر ایران کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نقشہ پوسٹ کیا، جس میں تیل کی عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو نئے امریکی علاقے کے طور پر دکھایا گیا۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ نقشہ ایسے وقت میں شیئر کیا گیا ہے جب وہ ماضی میں آبنائے ہرمز پر بحری ناکہ بندی کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنے کی بات کرچکے ہیں۔
— The White House (@WhiteHouse) August 18, 2026
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کے اقدام پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، خطے میں جنگیں بند نہیں ہوتیں، ایران کے مبینہ طور پر منجمد اثاثے واپس نہیں کیے جاتے، تیل پر پابندیاں ختم اور ایران کو فوجی دھمکیاں دینا بند نہیں کی جاتیں۔
Until the Trump regime removes the blockade, ends the wars across the region, returns Iran's stolen assets, lifts the oil sanctions, and ceases its military threats, the Strait of Hormuz will remain closed. pic.twitter.com/fl2RrKnT1R
— Seyed Mohammad Marandi (@s_m_marandi) August 18, 2026
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر کی غلط فہمی جلد دور کردی جائے گی۔
دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نقشے میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقے کے طور پر دکھانا ایران کے خلاف صدر کی سخت پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ناقدین نے امریکی پالیسی میں مبینہ دوہرے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کا اہم ترین سمندری راستہ ہے اور دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔