ویب ڈیسک: امریکی حکومت نے غیر ملکی طلبہ پر عائد اسٹوڈنٹ ویزا کی پابندی ختم کر دی ہے، تاہم اب ویزا کے خواہشمند افراد کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی دینا لازم ہوگا۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ معطل شدہ اسٹوڈنٹ ویزا پالیسی کو بحال کیا جا رہا ہے، لیکن اب ہر ویزا درخواست دہندہ کو اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو حکومتی جانچ کے لیے "پبلک" رکھنا ہوگا۔
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ قونصلر افسران درخواست دہندگان کے سوشل میڈیا پوسٹس، پیغامات اور دیگر مواد کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔ اگر کوئی مواد امریکا، اس کی حکومت، اداروں، ثقافت یا بنیادی اصولوں کے خلاف سمجھا گیا تو ویزا کی منظوری متاثر ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق، مئی میں اسٹوڈنٹ ویزا پروسیسنگ پر لگائی گئی عارضی پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے، لیکن نئی شرائط کے تحت اگر کوئی شخص سوشل میڈیا تک رسائی سے انکار کرے تو اس کی ویزا نظرثانی کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ یہ پالیسی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں متعارف کرائی گئی تھی، جس کا مقصد غیر ملکی طلبہ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کو مزید سخت بنانا تھا۔ اس وقت نئے ویزا انٹرویوز بھی عارضی طور پر معطل کیے گئے تھے۔