ویب ڈیسک: امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ نئی دہلی اس معاملے پر واشنگٹن سے مؤثر جواب طلب کرنے میں ناکام رہی۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیانات میں ہلاک ہونے والے بھارتی ملاحوں کا کوئی واضح ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی ہلاکت پر کسی قسم کے افسوس یا معذرت کا اظہار سامنے آیا۔
ناقدین کے مطابق امریکا نے اپنے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بحری ناکہ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ بھارتی حکومت خطے میں کام کرنے والے ہزاروں بھارتی بحری کارکنوں کے تحفظ کے حوالے سے ٹھوس ضمانتیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
حکومت کے مخالف حلقوں کا مؤقف ہے کہ تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی رہنماؤں کے حالیہ رابطوں اور ملاقاتوں کے دوران بھی اس واقعے کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔
دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے اس تنقید پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ حکومتی حامی حلقے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ نئی دہلی علاقائی استحکام، سفارتی روابط اور بھارتی شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف سفارتی ذرائع استعمال کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کا معاملہ نہ صرف سفارتی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا ہے بلکہ خطے میں بحری سلامتی اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔