(ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس سروس آف پاکستان کے سینئر افسر میاں عامر ذوالفقار خان کی ترقی نہ دینے اور انہیں طویل عرصے تک او ایس ڈی رکھنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے 27 فروری 2026 کو دیے گئے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار، جو گریڈ 21 کے سینئر افسر ہیں، کو گریڈ 22 میں ترقی کے لیے شفاف اور منصفانہ انداز میں زیر غور نہیں لایا گیا جبکہ ان کے جونیئر افسران کو ترقی دے دی گئی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ نے درخواست گزار کے خلاف مالی دیانت اور اختیارات کے غلط استعمال جیسے الزامات عائد کیے مگر ان کی کوئی ٹھوس بنیاد ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔
عدالت کے مطابق بورڈ نے مجاز قواعد کے برعکس ذاتی آراء اور غیر مصدقہ معلومات پر انحصار کیا، جبکہ درخواست گزار کی کارکردگی رپورٹس کو تسلیم کرنے کے باوجود انہیں کم درجہ بندی دی گئی جو منطقی تضاد ہے۔ مزید برآں درخواست گزار کو ان الزامات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی صفائی کا موقع دیا گیا، جو کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ درخواست گزار کو جنوری 2023 سے او ایس ڈی رکھنا، بغیر کسی واضح وجہ اور ذمہ داری کے، ایک غیر قانونی اور من مانی کارروائی تھی جس کا مقصد افسر کو عملی طور پر سائیڈ لائن کرنا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ہدایت کی کہ درخواست گزار کے کیس پر دوبارہ غور کیا جائے اور اس بار صرف سرکاری سروس ریکارڈ کو مدنظر رکھا جائے، کسی ذاتی تاثر یا غیر مستند معلومات کو شامل نہ کیا جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ترقی کے لیے غور محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ حقیقی اور منصفانہ ہونا چاہیے، اور کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف دیانت سے متعلق الزامات ٹھوس شواہد پر مبنی ہونا لازمی ہیں، بصورت دیگر ایسے فیصلے کالعدم تصور ہوں گے۔