افغان طالبان کے اندرونی اختلافات کھل کر منظرعام پر آگئے

افغان طالبان کے اندرونی اختلافات کھل کر منظرعام پر آگئے
کیپشن: افغان طالبان کے اندرونی اختلافات کھل کر منظرعام پر آگئے

ویب ڈیسک: افغان طالبان کے اندرونی اختلافات کھل کر منظرعام پر آگئے۔ حالیہ تقرریاں امیر المؤمنین (حفظہ اللہ) کے حکم پر عمل میں لائی گئی ہیں، لیکن ان کے پیچھے اصل وجہ ناکامیوں کو چھپانا اور اندرونی طاقت کو مستحکم کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قاری محمد ایوب خالد کو 215 الف عزم کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی علاقوں میں عسکری گرفت مضبوط کی جا رہی ہے۔

مولا شرف الدین تقی کو 217 عمری کور کی قیادت دی گئی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سابق کمانڈرز پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ مولا امان الدین منصور کو ہلمند کا گورنر بنایا گیا، تاکہ وہاں پر سیاسی اور عسکری ہم آہنگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

مولوی محمد اسماعیل کو بدخشان کا نیا گورنر مقرر کر کے ایک ایسا فرد لایا گیا ہے جو مرکز کی پالیسیوں کا مکمل حامی ہے۔ مولوی عنایت اللہ شجاع کو بارڈر امور میں نائب بنایا گیا ہے، حالانکہ وہ پہلے سے ایک صوبے کے گورنر رہ چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی طاقت محدود کی جا رہی ہے۔

مولوی عبد الرحمان کندزی کو ارزگان کا گورنر بنا کر ہلمند سے ہٹایا گیا، کیونکہ انہوں نے کابل کی پاکستان مخالف پالیسی پر اختلاف کیا تھا۔ ان تبدیلیوں کا ایک بڑا مقصد پاکستان کے ساتھ سرحدی تعاون میں ناکامی کو چھپانا ہے، خاص طور پر ٹی ٹی پی کی تنظیم کاری کے معاملے میں۔

کابل کی قیادت، خاص طور پر ملا یعقوب، ایسے افراد کو آگے لا رہے ہیں جو صرف ان کے وفادار ہوں، نہ کہ تحریک کے نظریاتی ساتھی۔ نئی تقرریاں بتاتی ہیں کہ طالبان قیادت میں داخلی تقسیم بڑھ رہی ہے اور اقتدار چند افراد کے ہاتھ میں مرکوز ہو رہا ہے۔

جو سابق گورنر پاکستان کے ساتھ ماضی کی حمایت کو اہم سمجھتے تھے، انہیں ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ وہ کابل کی نئی جارحانہ پالیسی کے خلاف تھے۔ ان تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کی قیادت اب مشوروں اور اختلاف رائے کو برداشت نہیں کر رہی۔

کچھ نئے گورنرز تحریک کی بجائے افراد کے وفادار ہیں، جس سے گروپ کی اجتماعی قیادت کا تصور کمزور ہو رہا ہے۔ یہ تقرریاں نہ صرف عسکری لحاظ سے اہم ہیں بلکہ سیاسی مستقبل کی سمت کا بھی تعین کر رہی ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو طالبان کے اندر مزید گروہ بندی اور قیادت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

Watch Live Public News