ویب ڈیسک : ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ نو منتخب نائب صدر جے ڈی وینس امریکا کے کم عمر ترین صدور میں سے ایک کے طور پر حلف اٹھائینگے ، بھارتی نژاد اہلیہ اوشا اگلی خاتون دوم ہوں گی۔
ری پبلکن پارٹی کے نو منتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک عام سے شخص کے طور پر زندگی کا آغاز کیا۔ لیکن بعد میں وہ کامیابیاں حاصل کرتے رہے ۔
ان کی پرورش امریکی ریاست اوہائیو کے ایک پسماندہ صنعتی قصبے میں ہوئی۔ انہوں نے آئی وی لیگ کہلانے والے امریکہ کے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک میں تعلیم حاصل کی۔ اب وہ تاریخ کے سب سے کم عمر نائب صدور میں سے ایک ہوں گے۔
جب پیر 20 جنوری کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ الیکشن جیتنے والے سیاست دان اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے تو 40 سال کی عمر میں وینس امریکہ کے تیسرے کم عمر ترین نائب صدر ہوں گے۔
امریکہ کے منتخب نائب صدر جے ڈی وینس کی اہلیہ اوشا وینس امریکہ کی اگلی خاتونِ دوم ہوں گی۔
بیس جنوری کو جے ڈی وینس کی حلف برداری کے بعد ییل یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ اوشا اب تک کے کسی بھی امریکی نائب صدر کی پہلی جنوبی ایشیا ئی نژاد امریکی اہلیہ بن جائیں گی۔
اوشا وینس ، ایک وکیل اور بھارتی تارکین وطن کی بیٹی، نائب صدر کی اہلیہ کے طور پر ایک تاریخی کردارسنبھالنے والی ہیں۔
اوشا وینس 1986 میں کیلی فورنیا میں بھارت سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن والدین کے ہاں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ییل یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ایک وکیل ہیں جو سپریم کورٹ کے دو قدامت پسند ججز کی کلرک رہ چکی ہیں۔
ان دونوں کی ملاقات لاء اسکول میں ہوئی تھی۔ 2014 میں ان دونوں کی شادی ہوئی اور ان کے تین بچے ہیں۔ جب سے ان کے شوہر سیاست میں نمایاں ہوئے ہیں انہوں نے خود کو اس شعبے سے نسبتاً دور رکھا ہے۔