ویب ڈیسک: راولپنڈی کے تھانہ چونترہ کی حدود میں واقع سہال اڈہ میں فائرنگ اور تشدد کے ایک سنگین واقعے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے نے نہ صرف مقامی آبادی میں خوف و ہراس پیدا کر دیا بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے، کیوں کہ اس کیس میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پنجاب اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری چوہدری نعیم اعجاز سمیت ان کے قریبی رشتہ داروں کا نام نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول محمد حسنین کے بھائی اور سابق کونسلر محمد ثقلین کی مدعیت میں درج مقدمے میں ایم پی اے چوہدری نعیم اعجاز، ان کے بھائی وسیم اعجاز، ندیم اعجاز اور دیگر 10 سے 15 نامعلوم افراد کو قتل، اقدام قتل، اعانتِ جرم اور دیگر دفعات کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مقتول کے خاندان کی آبائی زمین موضع سہال میں واقع ہے، جس پر مبینہ طور پر ایم پی اے کے لوگوں کی جانب سے مسلسل قبضے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔
مدعی کے مطابق، تقریباً بیس روز قبل انہوں نے دیگر دیہاتیوں کے ہمراہ اس مبینہ قبضہ مافیا کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا، جس کے بعد معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے ایک جرگہ یا کمیٹی قائم کی گئی۔ مشاورت کے سلسلے میں محمد ارشاد کے گھر بیٹھک کے بعد مقتول حسنین، ان کے چچا مشتاق اور دیگر دیہاتی سہال چوک کی جانب موجود تھے کہ اس دوران وسیم اعجاز، علی عمران، رمان عمران، وحید اور دیگر متعدد افراد مبینہ طور پر اسلحہ، آہنی راڈ اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر ویگو ڈالوں میں موقع پر پہنچے اور اندھا دھند فائرنگ کے ساتھ تشدد شروع کر دیا۔
حملے کے نتیجے میں محمد حسنین، تجمل اسرار اور چچا مشتاق شدید زخمی ہوگئے۔ زخمی حسنین کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین اور مقامی افراد نے سہال روڈ پر شدید احتجاج کیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
اے ایس پی صدر زینب ایوب اور دیگر پولیس حکام موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرایا۔ بعد ازاں لاش کا پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کا میڈیکل کروا کر ایف آئی آر درج کر لی گئی۔
رکنِ پنجاب اسمبلی چوہدری نعیم اعجاز سے موقف لینے کے لیے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے نہ فون کالز کا جواب دیا اور نہ ہی پیغامات کا۔