ویب ڈیسک: پاکستانی اسپنر آصف آفریدی 38 سال 299 دن کی عمر میں قومی ٹیم کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے دوسرے معمر ترین کھلاڑی بن گئے ہیں۔
اگر اس فہرست میں پاکستان کے سابق کھلاڑی عامر الٰہی کا شمار کیا جائے جو اس سے قبل بھارت کی نمائندگی کر چکے ہیں تو آصف تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔
پشاور میں پیدا ہونے والے آصف آفریدی نے 2009 میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا لیکن اس سیزن میں صرف تین میچ کھیلنے کے بعد وہ 2015 تک منظر سے غائب رہے۔ آصف آفریدی اب تک 57 فرسٹ کلاس میچوں میں 25.49 کی شاندار اوسط سے 198 وکٹیں لے چکے ہیں۔
آصف آفریدی کا موازنہ جنوبی افریقہ کے اسپنر سائمن ہارمر سے کیا جا سکتا ہے جن کی عمر 36 سال ہے۔ انہوں نے 233 فرسٹ کلاس میچوں میں 26.43 کی اوسط سے 992 وکٹیں حاصل کیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آصف کا دیر سے آنا اس بات کی علامت ہے کہ اگر کارکردگی ہے تو عمر صرف ایک عدد ہے۔