سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد حوثیوں کی پاکستان کو دھمکی، بھارتی پروپیگنڈے کا پول کھل گیا

سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد حوثیوں کی پاکستان کو دھمکی، بھارتی پروپیگنڈے کا پول کھل گیا
کیپشن: سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد حوثیوں کی پاکستان کو دھمکی، بھارتی پروپیگنڈے کا پول کھل گیا

ویب ڈیسک: ریاض میں 16 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی ہے۔

اس مہم میں ایک پرانی ویڈیو کلپ کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایک حوثی اہلکار نے مبینہ طور پر پاکستان کو یمن کی سرحد پر فوجی بھیجنے پر دھمکی دی ہے۔ تاہم فیکٹ چیک ویب سائٹ ’آئی ویری فائی پاکستان‘ نے اس دعوے کو مکمل طور پر جھوٹا اور گمراہ کن قرار دے دیا۔ تحقیقات سے واضح ہوا کہ ویڈیو میں پاکستان کا کہیں بھی ذکر موجود نہیں ہے۔

یہ ویڈیو دراصل حوثی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کی ہے، جس میں وہ مئی 2024 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف بیان دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا: “غزہ ہمارے لیے ایک سرخ لکیر ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر دشمن نے غزہ پر جارحیت جاری رکھی تو ہم ایسے اہداف کو نشانہ بنائیں گے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔”

ویڈیو سب سے پہلے لبنانی نیوز چینل المیادین اور ایرانی میڈیا آؤٹ لیٹ پریس ٹی وی نے 14 مئی 2024 کو جاری کی تھی۔ اس کا پاکستان یا سعودی عرب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس کے باوجود بھارتی پروپیگنڈہ اکاؤنٹس نے اسے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی تصاویر کے ساتھ جوڑ کر یہ غلط تاثر دیا کہ پاکستان نے نئے دفاعی معاہدے کے تحت یمن کی سرحد پر 25 ہزار فوجی تعینات کر دیے ہیں اور اس پر حوثیوں نے دھمکی دی ہے۔ یہ جھوٹی پوسٹ لاکھوں بار دیکھی گئی اور متعدد بھارتی صارفین نے اسے شیئر بھی کیا۔

فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ بھارتی سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی یہ مہم محض ایک جھوٹا بیانیہ ہے، جس کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو متنازع بنانا ہے۔

Watch Live Public News