ویب ڈیسک: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوچنگ کے دوران غیر معمولی بیرونی دباؤ اور مداخلت نے ان کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا تھا۔
ایک انٹرویو میں کرسٹن نے بتایا کہ ایسے ماحول میں کھلاڑیوں کے ساتھ واضح حکمت عملی ترتیب دینا اور اس پر عملدرآمد کرانا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیم کی خراب کارکردگی پر فوری اور سخت ردعمل اور تادیبی اقدامات مجموعی ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔
سابق کوچ نے کہا کہ اگر کسی کوچ کو ذمہ داری سونپی جائے تو اسے اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیم کے ساتھ کام کرنا ایک خوشگوار تجربہ رہا، اور زبان کا فرق ہونے کے باوجود کرکٹ ایک ایسی زبان ہے جو سب کو جوڑتی ہے۔