ویب ڈیسک: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود بھارت اپنے مؤقف کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، تاہم بھارت اسے داخلی معاملہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دہشتگردی کو بیرونی رنگ دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کے چند منٹوں میں ایف آئی آر کا اندراج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ پہلے سے تیار تھا، جس سے بھارتی مؤقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی میڈیا، بھارتی سول سوسائٹی اور تھنک ٹینکس بھی اس واقعے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کو بھارت نے مسترد کیا، جو اس کے مؤقف کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے اور کلبھوشن یادیو سمیت مختلف واقعات اس کی مثال ہیں۔
عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اپنی خودمختاری و سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا، جبکہ عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔